تائی پے: تائیوان نے مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز اور ان کے پرزوں کی برآمدات بڑھانے کے لیے امریکا اور یورپی منڈیوں پر توجہ تیز کر دی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جزیرے کی حکومت اور مقامی صنعت ایسی سپلائی چین تیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو چین پر کم انحصار کرے اور دفاعی و تجارتی صارفین کو قابلِ اعتماد متبادل فراہم کر سکے۔

تائیوان پہلے ہی سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس اور کمپیوٹنگ ہارڈویئر کی عالمی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اب یہی مہارت ڈرونز کے کنٹرول سسٹم، سینسرز، مواصلاتی آلات اور اے آئی پر مبنی خودکار صلاحیتوں میں استعمال کی جا رہی ہے۔ یوکرین جنگ اور دیگر تنازعات نے کم قیمت، تیزی سے تیار ہونے والے اور سافٹ ویئر کے ذریعے اپ ڈیٹ کیے جا سکنے والے ڈرونز کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

رائٹرز کے مطابق تائیوانی پالیسی سازوں کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ایسے پرزوں اور مکمل نظاموں کی تیاری ہے جن کی سپلائی چین میں چینی اجزا کم سے کم ہوں۔ امریکا اور بعض یورپی ممالک حساس ٹیکنالوجی اور دفاعی خریداری میں چین سے وابستہ سپلائی چین کے خطرات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے تائیوانی کمپنیوں کے لیے ممکنہ کاروباری موقع پیدا ہوا ہے۔

اے آئی ڈرونز میں خودکار راستہ بندی، تصویری شناخت، ہدف یا رکاوٹ کی شناخت اور محدود انسانی مداخلت کے ساتھ پرواز جیسی صلاحیتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ تاہم مختلف استعمالات کے لیے قواعد، برآمدی کنٹرول اور حفاظتی معیار الگ ہوتے ہیں۔ فوجی استعمال سے متعلق نظاموں پر زیادہ سخت پابندیاں اور لائسنسنگ لاگو ہو سکتی ہے، اس لیے ہر برآمدی معاہدہ یکساں نوعیت کا نہیں ہوگا۔

تائیوان کے لیے یہ صنعتی منصوبہ معاشی اور سکیورٹی دونوں پہلو رکھتا ہے۔ جزیرہ چین کے بڑھتے فوجی دباؤ کے باعث اپنی غیر متناسب دفاعی صلاحیتوں پر بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ مقامی پیداوار کا حجم اتنا بڑھے کہ ملکی ضرورت کے ساتھ برآمدی منڈی بھی پیدا ہو۔ بڑے پیمانے کی پیداوار لاگت کم کرنے اور سپلائر نیٹ ورک مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اس حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار صرف تکنیکی صلاحیت پر نہیں بلکہ قیمت، پیداوار کی رفتار، مغربی ممالک کے خریداری قواعد اور تائیوانی کمپنیوں کی بین الاقوامی شراکت داری پر بھی ہوگا۔ فی الحال تائیوان نے ایک بڑھتی ہوئی منڈی میں اپنی جگہ بنانے کا واضح ہدف رکھا ہے، مگر عالمی ڈرون صنعت میں امریکا، یورپ، ترکی، اسرائیل اور دیگر ممالک کے موجودہ مینوفیکچررز سے سخت مقابلہ بھی موجود ہے۔