لندن: برطانیہ کو آئندہ دو برس کے اندر مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ایسے سائبر حملے کے لیے تیار رہنا چاہیے جو اہم قومی انفراسٹرکچر کو متاثر کر سکے۔ رائٹرز کے مطابق ایک برطانوی پارلیمانی رپورٹ نے 3 نومبر کو خبردار کیا کہ تیزی سے ترقی کرتی اے آئی صلاحیتیں حملہ آوروں کے لیے پیچیدہ سائبر کارروائیوں کو زیادہ مؤثر اور قابلِ رسائی بنا سکتی ہیں۔

رپورٹ میں اہم انفراسٹرکچر سے مراد وہ نظام ہیں جن پر روزمرہ زندگی، معیشت اور قومی سلامتی کا انحصار ہوتا ہے، جن میں توانائی، پانی، مواصلات، نقل و حمل اور دیگر بنیادی خدمات شامل ہو سکتی ہیں۔ پارلیمانی جائزے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اے آئی حملہ آوروں کو کم وقت میں زیادہ اہداف تلاش کرنے، کمزوریوں کی نشاندہی کرنے اور بعض تکنیکی مراحل کو خودکار بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

یہ انتباہ کسی مخصوص حملے کی پیشگی اطلاع یا اس بات کی تصدیق نہیں کہ دو سال کے اندر لازماً ایسا واقعہ ہوگا۔ یہ خطرے کا جائزہ ہے جس کی بنیاد ٹیکنالوجی کی رفتار، موجودہ سائبر خطرات اور اہم نظاموں کی کمزوریوں پر رکھی گئی ہے۔ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ سکیورٹی رپورٹوں میں ممکنہ منظرنامے اور ثابت شدہ جاری حملے الگ نوعیت کی معلومات ہوتے ہیں۔

رپورٹ نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری، خطرات کی مسلسل نگرانی اور نجی شعبے کے ساتھ بہتر رابطے پر زور دیا۔ برطانیہ کا بڑا حصہ اہم انفراسٹرکچر نجی یا نیم نجی اداروں کے ذریعے چلاتا ہے، اس لیے سائبر دفاع میں سرکاری انٹیلی جنس، ریگولیٹرز اور کمپنیوں کے درمیان بروقت معلومات کا تبادلہ اہم سمجھا جاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت سائبر دفاع کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔ ادارے مشکوک نیٹ ورک سرگرمی، میلویئر اور غیر معمولی رویے کی تیز شناخت کے لیے اے آئی نظام اپنا رہے ہیں۔ اس وجہ سے خطرے کی تصویر یک طرفہ نہیں: وہی ٹیکنالوجی حملہ آوروں کی صلاحیت بڑھا سکتی ہے اور دفاعی ٹیموں کو بھی زیادہ تیز ردعمل کے ذرائع دے سکتی ہے۔

پارلیمانی رپورٹ کے بعد توجہ اس بات پر رہے گی کہ برطانوی حکومت کن سفارشات کو عملی پالیسی، فنڈنگ اور ریگولیٹری تقاضوں میں تبدیل کرتی ہے۔ اہم قومی نظاموں کی مضبوطی کا حقیقی امتحان صرف نئے سافٹ ویئر سے نہیں بلکہ پرانے نظاموں کی اپ گریڈنگ، تربیت یافتہ افرادی قوت، ہنگامی منصوبہ بندی اور اداروں کے درمیان مؤثر تعاون سے بھی جڑا ہوگا۔