بیجنگ: چین نے یورپی یونین کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی اختلافات کو بات چیت اور کھلے تعاون کے ذریعے حل کرنے کا مؤقف دہرایا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے آٹھ اکتوبر کو یہ بیان ایسے وقت دیا جب یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروس شیفچووچ بیجنگ کے دورے پر موجود ہیں۔ اس دورے کے دوران ان کی چینی وزیر تجارت وانگ وین تاؤ سے ملاقات متوقع ہے۔
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ بیجنگ توقع رکھتا ہے کہ یورپی فریق دونوں جانب کے لیے قابل قبول حل تلاش کرنے میں تعاون کرے گا۔ ان کے مطابق چین اور یورپی یونین کے درمیان صحت مند اور مستحکم اقتصادی تعلقات دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہیں۔ یہ بیان چین کا سرکاری مؤقف ہے؛ اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ زیر بحث تجارتی تنازعات پہلے ہی حل ہوچکے ہیں۔
دونوں فریقوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں تجارت کا توازن ایک اہم معاملہ رہا ہے۔ روئٹرز کے مطابق گزشتہ تین ماہ سے یورپی یونین کے چین کے ساتھ سامان کی تجارت میں روزانہ ایک ارب یورو سے زیادہ کے خسارے اور اہم معدنیات کی چینی برآمدی پابندیوں سے متعلق بات چیت ہوتی رہی ہے۔ ان معدنیات میں نایاب ارضی عناصر سمیت وہ مواد شامل ہے جو مختلف صنعتی اور ٹیکنالوجی مصنوعات کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
تجارتی کمشنر کا دورہ جمعے تک جاری رہنے کا پروگرام ہے۔ اس دوران ہونے والی سرکاری ملاقاتوں سے فریقین کے اختلافی نکات اور ممکنہ اگلے اقدامات واضح ہوسکتے ہیں، تاہم دستیاب تازہ رپورٹ میں کسی نئے جامع تجارتی معاہدے پر دستخط یا کسی پابندی کے خاتمے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ چینی مؤقف میں بات چیت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، جبکہ یورپی اداروں کی جانب سے پیش کردہ تجارتی تحفظات بھی زیر بحث ہیں۔
چینی وزارت خارجہ نے اس موقع پر فرانسیسی صدر کے سفارتی مشیر ایمانوئل بون کے نو سے تیرہ اکتوبر تک مجوزہ دورے کا بھی اعلان کیا۔ وزارت کے مطابق وہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے ساتھ تزویراتی رابطے اور عالمی معاملات پر بات کریں گے۔ یہ الگ سفارتی رابطہ ہے اور اسے یورپی تجارتی کمشنر کے مذاکرات کا متبادل یا ان کے نتائج کی پیشگی توثیق نہیں سمجھنا چاہیے۔
چین اور یورپی یونین کے تعلقات عالمی تجارت کے لیے اہم ہیں کیونکہ دونوں بڑی صنعتی اور صارف منڈیاں ہیں۔ اس لیے تجارتی خسارے، صنعتی رسد اور اہم معدنیات کی برآمدات سے متعلق اختلافات کا حل صرف دو طرفہ کاروبار ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سپلائی چین کے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔ فی الحال قابل تصدیق نئی پیش رفت مذاکرات کی جاری سفارتی سرگرمی اور بیجنگ کا بات چیت پر زور دینا ہے۔

