وارسا: پولینڈ کے دارالحکومت سے تقریباً 120 کلومیٹر شمال میں واقع شہر اوسٹرولیکا کے ایک پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے میں بدھ، 7 اکتوبر 2026 کو چاقو سے حملے کے نتیجے میں نو افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق زخمیوں میں پانچ طلبہ، دو اساتذہ اور دو راہ گیر شامل ہیں۔ پولیس نے واقعے کے بعد ایک 19 سالہ نوجوان کو حراست میں لیا ہے۔ مقامی پولیس کے ترجمان کے مطابق اطلاع کے وقت کسی زخمی کی جان کو خطرہ نہیں تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے حوالے سے ڈان نے بتایا کہ حملہ ادارے کے اندر شروع ہوا اور پولیس نے واقعے کے تقریباً بیس منٹ بعد اسکول کے قریب ایک مشتبہ نوجوان کو گرفتار کر لیا۔ مقامی پراسیکیوٹر آفس کی نمائندہ الزبیئتا لوکاسیویچ نے بتایا کہ نوجوان ادارے میں داخل ہوا اور ایک خطرناک آلے سے طلبہ اور اساتذہ پر حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق گرفتاری کے بعد ملزم کو طبی امداد بھی دی گئی اور بعد میں اسے پولیس کی تحویل میں رکھا گیا۔
مقامی اعلیٰ انتظامی عہدیدار ماریوش فرانکووسکی نے زخمیوں کی تعداد اور ان کی مختلف شناختی حیثیتوں کی تصدیق کی۔ پولیس ترجمان ماریوش زیرانسکی نے صحافیوں کو بتایا کہ نو زخمیوں میں سے کسی کی زندگی فوری خطرے میں نہیں تھی۔ یہ طبی صورتحال کے بارے میں واقعے کے بعد دیا گیا بیان تھا؛ زخمیوں کے علاج یا بعد کی صحت سے متعلق کوئی اضافی نتیجہ اس خبر میں موجود نہیں۔
حکام نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اسکول بند کر دیا۔ بم ناکارہ بنانے والے ماہرین ایک ایسا بیگ بھی اپنے ساتھ لے گئے جو مشتبہ حملہ آور نے ادارے میں چھوڑا تھا۔ دستیاب رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بیگ سے دھماکا خیز مواد ملا یا نہیں؛ محض ماہرین کی کارروائی کو کسی دھماکا خیز شے کی موجودگی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
حملے کے بعد سوشل میڈیا پر مشتبہ شخص کی قومیت سے متعلق افواہیں بھی گردش کرتی رہیں۔ رپورٹ میں ایسی قیاس آرائیوں کی کوئی مصدقہ بنیاد فراہم نہیں کی گئی، اس لیے کسی قومیت یا غیر ملکی گروہ کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ پولیس کی کارروائی اور پراسیکیوشن کے ابتدائی بیانات کے مطابق تحقیقات جاری نوعیت کی ہیں۔ کسی شخص کی گرفتاری اور اس پر شبہ ظاہر ہونا جرم کے عدالتی طور پر ثابت ہونے کے برابر نہیں۔ حکام کی آئندہ تفصیلات سے محرک اور واقعات کی مکمل ترتیب واضح ہو سکے گی۔
