واشنگٹن: عالمی ترقیاتی اداروں کو چین کی مالی معاونت میں نمایاں اضافے کے باوجود ان اداروں میں اس کی فیصلہ سازی کی طاقت اتنی تیزی سے نہیں بڑھی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے آٹھ اکتوبر کو سینٹر فار گلوبل ڈویلپمنٹ کی نئی تحقیق کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سنہ 2010 کے بعد کثیر فریقی ترقیاتی اداروں کے لیے چین کی مالی معاونت تقریباً دس گنا ہوچکی ہے۔ یہ نتیجہ تحقیقی ادارے کا تجزیہ ہے، کسی عالمی ادارے کی طرف سے نئے ووٹنگ حقوق دینے کا اعلان نہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2024 میں ترقیاتی بینکوں کے لیے چین کی فنڈنگ تین ارب ڈالر تک پہنچی۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی اداروں کو تعاون میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ 2025 میں کثیر فریقی موسمیاتی مالی اعانت 5.25 ارب ڈالر تک بتائی گئی۔ تاہم تمام شعبوں کے لیے عطیات یکساں طور پر نہیں بڑھے۔ مثال کے طور پر کم آمدن والے ممالک میں ویکسین کی فراہمی کے پروگرام گاوی کے لیے چینی معاونت میں بتیس فیصد کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔

تحقیق کے شریک مصنف ایان مچل کے مطابق پندرہ برس پہلے کے مقابلے میں یہ تبدیلی بڑی ہے لیکن چینی معیشت کے مجموعی حجم کے تناظر میں مالی تعاون اب بھی نسبتاً محدود ہے۔ دوسری شریک مصنفہ بیٹا چیچوکا نے بتایا کہ چین نے عالمی ادارۂ صحت کے لیے بعض بڑی ادائیگیاں کی ہیں، تاہم وہ امریکا اور دوسرے مغربی عطیہ دہندگان کی جانب سے کم ہونے والے تمام وسائل کا متبادل نہیں بن سکا۔

تحقیق میں مالی تعاون اور ادارہ جاتی اختیار کے درمیان فرق کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ عالمی بینک میں چین کا حصہ تقریباً چھ فیصد بتایا گیا جبکہ امریکا کا حصہ تقریباً سولہ فیصد ہے، جس سے اسے بعض اہم فیصلوں میں ویٹو کی حیثیت حاصل ہے۔ چین اس مؤقف کی حمایت کرتا رہا ہے کہ اس کی معیشت اور مالی معاونت کے تناسب سے عالمی بینک اور آئی ایم ایف میں نمائندگی بڑھنی چاہیے۔ دوسری طرف مغربی حکام نے حصص کی تقسیم میں تبدیلی پر اتفاق رائے اور شفافیت سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مطالعے کے مطابق چین دنیا کے غریب ترین ملکوں کے لیے عالمی بینک کے فنڈ، انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن، کا پانچواں بڑا عطیہ دہندہ بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کثیر فریقی ترقیاتی بینکوں سے چین کا اپنا قرض لینا کم ہوا ہے؛ تحقیق میں 2021 کے آٹھ ارب ڈالر کے مقابلے میں 2024 کے لیے 4.7 ارب ڈالر کا عدد دیا گیا ہے۔

یہ نتائج آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے آئندہ سالانہ اجلاسوں سے پہلے سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عطیات میں اضافہ، ووٹوں کی تقسیم اور انتظامی عہدوں میں نمائندگی تین الگ امور ہیں؛ کسی ایک میں تبدیلی لازماً دوسرے میں فوری اضافے کا باعث نہیں بنتی۔