اسلام آباد: پاکستان کو چین اور کویت کی جانب سے قرضوں اور مالی معاونت کے رول اوور سے متعلق یقین دہانیاں ملی ہیں، جس سے حکومت کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ وزارت خزانہ سے متعلق رپورٹنگ کے مطابق یہ یقین دہانیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران بیرونی قرض ادائیگیوں، زرمبادلہ ذخائر اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ فنانسنگ اہداف میں توازن برقرار رکھنا ہے۔

قرض کا رول اوور عام طور پر موجودہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کی مدت بڑھانے یا اسے نئی مدت کے لیے برقرار رکھنے کو کہا جاتا ہے۔ اس سے فوری زرمبادلہ اخراج کم ہو سکتا ہے، لیکن اصل مالی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ اسی لیے چین اور کویت کی یقین دہانیوں کو نئی گرانٹ یا قرض معافی کے بجائے بیرونی مالی دباؤ کو عارضی طور پر منظم کرنے کے انتظام کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام میں دوست ممالک اور کثیرالجہتی اداروں سے متوقع رقوم اور موجودہ ڈپازٹس یا قرضوں کے تسلسل کو بیرونی فنانسنگ فریم ورک کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ حکومت کو ہر جائزے کے دوران یہ دکھانا ہوتا ہے کہ آئندہ مہینوں کی متوقع ادائیگیوں کے مقابلے میں کافی مالی وسائل دستیاب ہوں گے۔ چین پاکستان کا بڑا دوطرفہ قرض دہندہ اور مالی شراکت دار ہے، جبکہ خلیجی ممالک بھی ڈپازٹس، سرمایہ کاری اور دیگر مالی سہولتوں کے ذریعے پاکستان کے بیرونی کھاتے میں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

حکام کی یقین دہانیوں کے باوجود اصل اثر اس وقت واضح ہوگا جب متعلقہ رول اوورز کی دستاویزی کارروائی اور ادائیگی کے نئے شیڈول مکمل ہوں گے۔ بیرونی کھاتے کی پائیداری صرف قرض کی مدت بڑھانے پر منحصر نہیں بلکہ برآمدات، ترسیلات زر، براہ راست سرمایہ کاری، جاری کھاتے کے توازن اور زرمبادلہ ذخائر میں مستقل بہتری بھی ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ آئندہ جائزوں میں انہی عوامل کے ساتھ بیرونی فنانسنگ کی تصدیق بھی اہم رہے گی۔