اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے صنعتی سرگرمی بڑھانے کے لیے متعارف کرائے گئے انکریمنٹل سپورٹ پیکیج کا نرخ 22 روپے 98 پیسے سے بڑھا کر 25 روپے 30 پیسے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے۔ اتھارٹی میں اس فیصلے پر دو دو ارکان کی رائے تقسیم ہوئی، جس کے بعد چیئرمین نیپرا وسیم مختار نے کاسٹنگ ووٹ استعمال کر کے نظرثانی شدہ نرخ کی منظوری دی۔
یہ پیکیج گزشتہ دسمبر میں صنعتی صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا اور چھ ماہ بعد اس کے نتائج کا جائزہ لیا جانا تھا۔ نیپرا کے مطابق پاور ڈویژن کی جانب سے مطلوبہ معلومات اور نظرثانی شدہ حسابات بروقت فراہم نہ ہونے کے باعث ریگولیٹر کو فیصلہ کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ تمام چار ارکان نے متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے مقررہ مدت میں قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر تشویش ظاہر کی۔
ممبر ٹیرف امینہ احمد اور ممبر ڈیولپمنٹ مقصود انور نے مشترکہ اختلافی نوٹ میں 25.30 روپے کے نرخ کی مخالفت کی۔ ان کے مطابق نیپرا کے ادارہ جاتی حسابات میں اضافی بجلی کی مارجنل لاگت 31.83 روپے فی یونٹ بنتی ہے، اس لیے مستند اور مکمل اعداد و شمار آنے تک پیکیج کو عارضی طور پر معطل کرنا زیادہ مناسب ہوتا۔ یہ اختلافی موقف ہے، جبکہ اتھارٹی کا نافذ العمل فیصلہ 25.30 روپے فی یونٹ کا نرخ ہے۔
چیئرمین نیپرا نے اختلافی ارکان کے نکات کو سنجیدہ قرار دیا، تاہم کہا کہ فوری طور پر پیکیج معطل کرنے کے بجائے وزارت توانائی کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا ایک اور موقع دیا جانا چاہیے۔ اتھارٹی نے متعلقہ اداروں کے لیے معلومات کی فراہمی کی آخری تاریخیں بھی مقرر کیں اور خبردار کیا کہ عدم تعمیل کی صورت میں پروگرام کی معطلی یا خاتمے سمیت قانونی کارروائی زیر غور آ سکتی ہے۔
اسی فیصلے کے ساتھ نیپرا نے نومبر کے بلوں میں ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت 2 روپے 37 پیسے فی یونٹ اضافی وصولی کی اجازت بھی دی ہے۔ اس مد میں تقریباً 25 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے اور اس کا اطلاق متعلقہ بجلی صارفین پر ریگولیٹری قواعد کے مطابق ہوگا۔
صنعتی شعبہ اس پیکیج کے طریقہ کار پر پہلے ہی تحفظات ظاہر کرتا رہا ہے۔ ریگولیٹر کے اندر اختلاف سے یہ بحث مزید نمایاں ہوئی ہے کہ صنعتی طلب بڑھانے کے لیے رعایتی یا خصوصی نرخ مقرر کرتے وقت اصل پیداواری لاگت، دوسرے صارفین پر ممکنہ مالی اثر اور بروقت سرکاری ڈیٹا کی دستیابی کو کس طرح متوازن کیا جائے۔
