اسلام آباد: پاکستان کی اشیائی برآمدات رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھی ہیں، تاہم درآمدات کی رفتار زیادہ رہنے کے باعث تجارتی خسارہ مزید وسیع ہوگیا۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اکتوبر 2026 کے دوران برآمدی آمدن 11.34 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے 10.45 ارب ڈالر سے 8.52 فیصد زیادہ ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسی چار ماہ میں درآمدات 12.59 فیصد بڑھ کر 25.96 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 23.06 ارب ڈالر تھا۔ درآمدات میں برآمدات سے زیادہ تیز اضافے کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 12.62 ارب ڈالر سے بڑھ کر 14.63 ارب ڈالر ہوگیا، یعنی سالانہ بنیاد پر 15.97 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

صرف اکتوبر 2026 میں برآمدات 2.93 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال اکتوبر کے 2.85 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.84 فیصد زیادہ ہیں۔ ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر کی برآمدات میں صرف 0.21 فیصد اضافہ ہوا، جس سے برآمدی رفتار میں سست روی کا اشارہ ملتا ہے۔ دوسری جانب اکتوبر کا درآمدی بل 6.81 ارب ڈالر رہا، جو ایک سال پہلے کے 6.08 ارب ڈالر سے 11.81 فیصد زیادہ ہے۔ ماہانہ بنیاد پر بھی درآمدات 5.72 فیصد بڑھیں۔

نتیجتاً اکتوبر کا تجارتی خسارہ 3.87 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ 3.24 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح ماہانہ تجارتی فرق میں سالانہ بنیاد پر 19.70 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ صورت حال بیرونی کھاتے کے لیے اہم ہے کیونکہ درآمدی ادائیگیوں میں اضافہ زرمبادلہ کی طلب بڑھاتا ہے، جبکہ برآمدی آمدن کی نسبتاً کم رفتار اس دباؤ کو متوازن کرنے کی صلاحیت محدود کرتی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ اور یورپی منڈیوں میں برآمدی نمو جنگ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے بعد متاثر ہوئی ہے۔ افغانستان کی منڈی بھی اکتوبر 2025 سے بند رہنے کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ محدود کیے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز میں خلل سے شپنگ اخراجات میں اضافے نے بھی برآمدی شعبے کی لاگت پر دباؤ ڈالا ہے۔

مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی اشیائی برآمدات 30.13 ارب ڈالر رہی تھیں، جو اس سے پچھلے سال کے 32.04 ارب ڈالر کے مقابلے میں 5.97 فیصد کم تھیں۔ موجودہ مالی سال کے ابتدائی اعداد و شمار برآمدات میں بحالی دکھاتے ہیں، لیکن درآمدات اور تجارتی خسارے کی تیز رفتار پالیسی سازوں کے لیے بیرونی ادائیگیوں، برآمدی مسابقت اور کاروباری لاگت سے متعلق چیلنج برقرار رکھتی ہے۔