کراچی: ترکی کا جدید سیسمک تحقیقی جہاز چاغری بے پاکستان کے سمندری علاقے میں تیل اور گیس کے ممکنہ ذخائر کی تلاش کے لیے آف شور سروے مشن پر پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان اور ترکی کے درمیان توانائی کے شعبے میں بڑھتے تعاون کا حصہ ہے، جس کے تحت سمندر میں زیرِ زمین ارضیاتی ساخت کا تفصیلی ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔
سیسمک سروے میں خصوصی آلات کے ذریعے سمندر کی تہہ کے نیچے موجود چٹانی پرتوں کی ساخت کا نقشہ تیار کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے ماہرین کو یہ اندازہ لگانے میں مدد ملتی ہے کہ کن مقامات پر ہائیڈروکاربن کے ذخائر موجود ہونے کے امکانات نسبتاً زیادہ ہیں۔ تاہم سروے بذاتِ خود تیل یا گیس کی دریافت کی ضمانت نہیں ہوتا؛ حتمی تصدیق کے لیے بعد کے مراحل میں تشخیصی کام اور ضرورت پڑنے پر کھدائی کرنا پڑتی ہے۔
چاغری بے کی آمد ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور مقامی توانائی وسائل کی تلاش تیز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملک کے سمندری علاقوں میں ماضی میں بھی تلاش کا کام ہوا ہے، لیکن تجارتی سطح کی بڑی دریافتیں محدود رہی ہیں۔ نئی تکنیکی صلاحیت اور بین الاقوامی شراکت داری سے حکومت کو امید ہے کہ آف شور بلاکس کے بارے میں زیادہ معیاری ارضیاتی معلومات حاصل ہوں گی۔
ترک پیٹرولیم سے وابستہ اس مشن میں جدید دو جہتی اور تین جہتی سیسمک ٹیکنالوجی استعمال کیے جانے کی توقع ہے، جس سے زیرِ سمندر ساخت کا نسبتاً واضح ڈیٹا تیار کیا جا سکے گا۔ سروے سے حاصل ہونے والی معلومات کو بعد میں ماہرین ارضیات اور پیٹرولیم انجینئرز ممکنہ ڈرلنگ مقامات کی ترجیح طے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان اور ترکی حالیہ برسوں میں دفاع، تجارت، توانائی اور انفراسٹرکچر سمیت متعدد شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں۔ آف شور توانائی کی تلاش میں شراکت داری اس تعاون کا عملی پہلو ہے، کیونکہ پاکستان کے لیے مقامی گیس اور تیل کی پیداوار میں اضافہ درآمدی بل اور توانائی کی دستیابی دونوں کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس مرحلے پر کسی نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ سرگرمی بنیادی طور پر تحقیقی اور سیسمک ڈیٹا اکٹھا کرنے سے متعلق ہے، اور اس کے نتائج کی تکنیکی جانچ کے بعد ہی اگلے مرحلے، ممکنہ کھدائی یا سرمایہ کاری کے فیصلے کیے جائیں گے۔
