اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے صنعتی سرگرمی کی بحالی کے لیے متعارف کرائے گئے خصوصی بجلی پیکیج کے ٹیرف میں نظرثانی کرتے ہوئے اسے 25.30 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق فیصلے پر صنعتی شعبے کی جانب سے تحفظات سامنے آئے ہیں، جبکہ ریگولیٹر کے اندر بھی ٹیرف کے حساب کے طریقہ کار پر اختلاف ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق نیپرا کے دو ارکان نے نظرثانی کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بجلی کی حقیقی مارجنل لاگت 31.83 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ اس اختلاف کے باوجود ریگولیٹر نے صنعتی پیکیج کے لیے 25.30 روپے فی یونٹ کی شرح کا اعلان کیا۔ فیصلے کا مقصد صنعتوں کو اضافی بجلی استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے، تاہم ریگولیٹری شرائط اور اخراجات کے تعین پر بحث برقرار ہے۔

نیپرا نے نومبر کے بجلی بلوں کے لیے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2.37 روپے فی یونٹ اضافی وصولی کی بھی منظوری دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس ایڈجسٹمنٹ سے تقریباً 25 ارب روپے کی وصولی متوقع ہے اور اس کے اثرات مختلف تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین تک پہنچیں گے۔

ریگولیٹر کے چاروں ارکان نے پاور ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کی جانب سے مقررہ قانونی مدت میں ضروری ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر تنقید کی۔ نیپرا کے مطابق تاخیر نے ریگولیٹری عمل کو مشکل صورت حال سے دوچار کیا اور اگر متعلقہ تقاضے بروقت پورے نہ کیے گئے تو پیکیج کی معطلی اور قانونی کارروائی جیسے اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔

صنعتی بجلی کی قیمت پاکستان کی برآمدی مسابقت، پیداواری لاگت اور فیکٹریوں کے صلاحیتی استعمال سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے خصوصی پیکیج کی قیمت میں تبدیلی کا اثر صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہتا بلکہ صنعت، روزگار اور برآمدی آرڈرز کے فیصلوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف ریگولیٹر کو یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ رعایتی یا خصوصی نرخوں سے بجلی کے باقی صارفین پر غیر متناسب مالی بوجھ منتقل نہ ہو۔