بیجنگ: چین نے شینژو-22 انسانی خلائی مشن روانہ کر دیا ہے، جس کے ذریعے خلا بازوں کا نیا عملہ چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کی جانب روانہ ہوا۔ مشن چین کے طویل مدتی انسانی خلائی پروگرام اور مدار میں مستقل سائنسی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق شینژو-22 خلائی جہاز کو لانگ مارچ راکٹ کے ذریعے چین کے خلائی لانچ مرکز سے روانہ کیا گیا۔ لانچ کے بعد خلائی جہاز نے مقررہ مداری سفر شروع کیا، جہاں سے اسے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے ساتھ ملاپ کے مرحلے کی طرف بڑھنا ہے۔ چینی خلائی حکام انسانی خلائی پروازوں کے سلسلے میں عملے کی باقاعدہ تبدیلی اور مدار میں طویل قیام کے مشن انجام دیتے رہے ہیں۔
تیانگونگ خلائی اسٹیشن چین کے خلائی پروگرام کا مرکزی انسانی مداری پلیٹ فارم ہے۔ یہاں خلا باز سائنسی تجربات، مائیکرو گریویٹی تحقیق، خلائی ٹیکنالوجی کی آزمائش اور اسٹیشن کی دیکھ بھال سے متعلق کام انجام دیتے ہیں۔ نئے عملے کی آمد کے ساتھ سابق عملے سے ذمہ داریوں کی منتقلی اور جاری تجربات کو آگے بڑھانے کا عمل بھی پروگرام کا حصہ ہوتا ہے۔
چین نے گزشتہ برسوں میں اپنے انسانی خلائی پروگرام کی رفتار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ شینژو سلسلے کے مشن خلا بازوں کو تیانگونگ تک پہنچانے اور واپس لانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ تیانژو کارگو مشن اسٹیشن کے لیے سامان، آلات اور دیگر ضروریات پہنچاتے ہیں۔ اس مربوط نظام نے چین کو مدار میں مسلسل انسانی موجودگی برقرار رکھنے کی صلاحیت فراہم کی ہے۔
شینژو-22 کے لانچ کی کامیابی مشن کے ابتدائی مرحلے کی تکمیل ہے۔ انسانی خلائی پرواز میں لانچ کے بعد مداری ملاپ، ڈاکنگ، عملے کی منتقلی اور بعد کے آپریشنز الگ مراحل ہوتے ہیں، اس لیے ہر مرحلے کی کامیابی متعلقہ خلائی حکام کی تصدیق کے مطابق ہی رپورٹ کی جاتی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں لانچ اور مشن کے آغاز کی تصدیق کی گئی ہے۔
چین اپنے خلائی پروگرام میں چاند کی تحقیق، سیاروی مشنز، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور انسانی خلائی پروازوں کو متوازی طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔ تیانگونگ پر مسلسل مشن اس حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں کیونکہ یہ طویل مدتی انسانی قیام، سائنسی تحقیق اور مستقبل کے پیچیدہ خلائی منصوبوں کے لیے عملی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ شینژو-22 کی پیش رفت کے بارے میں مزید معلومات ڈاکنگ اور اسٹیشن پر عملے کی سرگرمیوں کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

