بیجنگ: چین نے 2030 تک قومی بلاک چین نیٹ ورک بنیادی طور پر قائم کرنے اور ملک کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو اگلے مرحلے میں لے جانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی شنہوا رپورٹ کے مطابق سینٹرل سائبر اسپیس افیئرز کمیشن کی دستاویز میں اگلے پانچ برس کے دوران ذہین انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ڈیٹا سائنس پر توجہ بڑھانے کا خاکہ دیا گیا ہے۔
منصوبے میں مناسب وقت پر چھٹی نسل کی موبائل ٹیکنالوجی یعنی 6G کی تجارتی سروس شروع کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ دستاویز کے مطابق چین 2030 تک انفارمٹائزیشن میں نمایاں پیش رفت چاہتا ہے تاکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ملکی جدیدکاری میں زیادہ بڑا کردار ادا کرے۔
رپورٹ کے مطابق 2030 تک چین میں انٹرنیٹ کی رسائی 85 فیصد تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جو 2025 میں 80.1 فیصد تھی۔ اسی عرصے میں ہر 10 ہزار افراد کے لیے 5G بیس اسٹیشنز کی تعداد 34 سے بڑھا کر 50 کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
منصوبہ کمپیوٹیشنل میتھمیٹکس، کمیونیکیشن نیٹ ورکس اور ڈیٹا سائنس میں بنیادی تحقیق مضبوط کرنے پر بھی زور دیتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کو آپریٹنگ سسٹمز اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ ٹول چینز کے ساتھ زیادہ گہرائی سے مربوط کرنے اور اہم بنیادی ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کے اہداف بھی شامل ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں تمام سطحوں پر اے آئی تعلیم پھیلانے، معاشرے میں مصنوعی ذہانت کی بنیادی سمجھ بڑھانے اور ڈیجیٹل ہنرمندوں کے لیے پیشہ ورانہ تعلیمی نظام تیز کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ شعبوں کو مرحلہ وار مزید کھولنے، ڈیٹا سکیورٹی مضبوط کرنے اور ذاتی معلومات کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے۔
چینی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تخمینے کے مطابق ملک کی انفارمیشن اور کمیونیکیشن صنعت کی آمدن 2030 تک 4.1 ٹریلین یوآن تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ اہداف سرکاری منصوبہ بندی کا حصہ ہیں؛ ان کی عملی تکمیل آئندہ پالیسی اقدامات، سرمایہ کاری، تکنیکی پیش رفت اور ریگولیٹری فیصلوں پر منحصر ہوگی۔

