برلن: جرمن ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں پاکستان کے صحت کے موجودہ انفراسٹرکچر کو جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی حل کے ذریعے مضبوط بنانے کے لیے تعاون بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایوانِ صدر کے بیان کے مطابق ملاقات ہفتہ 24 اکتوبر کو برلن میں ہوئی، جہاں صدر زرداری جرمنی کے تین روزہ دورے پر موجود ہیں۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سیمنز کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈینیئل فرش سمیت کمپنی کے نمائندوں نے صدر کو پاکستان میں اپنی سرگرمیوں اور صحت کے شعبے میں کیے گئے کام سے آگاہ کیا۔ وفد نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں موجودہ تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار ہے اور صحت کی خدمات میں تکنیکی اطلاق اور اختراعی حل متعارف کرانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
ایوانِ صدر کے مطابق سیمنز کے نمائندوں نے بتایا کہ ان کے عہدیدار جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں صحت کی صنعت میں استعداد کار بڑھانے اور تکنیکی شعبوں میں شراکت داروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر کام کیا جائے گا۔ وفد نے کینسر، فالج اور دیگر بیماریوں سے متعلق تکنیکی انفراسٹرکچر میں تعاون کا بھی ذکر کیا۔ اس مرحلے پر کسی مخصوص سرمایہ کاری رقم، منصوبے کی حتمی لاگت یا نفاذ کی قطعی مدت کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے مجوزہ تعاون کو ابھی ابتدائی ادارہ جاتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
صدر زرداری نے پاکستان میں صحت کی خدمات بہتر بنانے کے لیے تحقیق پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے حل اپنانے پر زور دیا۔ انہوں نے جرمن صنعتی، تکنیکی اور انفراسٹرکچر تعاون کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیاری اور نسبتاً قابلِ استطاعت صحت سہولتوں تک وسیع رسائی ضروری ہے، بالخصوص دور دراز اور کم آمدنی والے علاقوں میں۔
صدر نے سیمنز کو پاکستان میں اپنی موجودگی مزید بڑھانے اور صحت کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری متنوع بنانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کمپنی کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، جرمنی میں پاکستان کے سفیر سلمان شریف اور سندھ کے صوبائی وزرا بھی شریک تھے۔
یہ ملاقات پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر صدر کے دورۂ جرمنی کے دوران ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان معیشت، تعلیم، دفاع، صنعت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں روابط موجود ہیں۔ صحت کے شعبے میں سیمنز کے مجوزہ اگلے اقدامات کی عملی نوعیت آئندہ دوروں، مفاہمتی یادداشتوں اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے ساتھ طے ہونے والے منصوبوں سے واضح ہوگی۔

