اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 2030 تک پاکستان بھر میں تقریباً تین ہزار عوامی الیکٹرک وہیکل چارجنگ سہولتیں قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب میں بتایا کہ نیو انرجی وہیکل پالیسی 2025-30 کے تحت برقی ٹرانسپورٹ کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کو مرحلہ وار وسعت دی جائے گی۔
ARY News کے مطابق پالیسی کے ابتدائی مرحلے میں موٹرویز اور قومی شاہراہ این فائیو کے منتخب حصوں پر 40 فاسٹ چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔ بڑی شاہراہوں پر تقریباً 50 کلومیٹر کے وقفے سے چارجنگ پوائنٹس فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے تاکہ طویل فاصلے کے سفر میں برقی گاڑیوں کے استعمال سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی رکاوٹ کم کی جا سکے۔
وزارت نے یہ تفصیلات رکن قومی اسمبلی ملک شاکر بشیر اعوان کے سوال کے جواب میں پیش کیں۔ پالیسی کے تحت موجودہ فیول اسٹیشنز کو بھی ای وی چارجنگ یونٹس نصب کرنے کی ترغیب دینے کا منصوبہ ہے۔ حکومت فاسٹ چارجنگ کے ساتھ لیول ٹو اور لیول ون سہولتوں کے پھیلاؤ اور برقی دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے بیٹری سویپنگ اسٹیشنز کی تیاری کا ارادہ رکھتی ہے۔
نجی سرمایہ کاری راغب کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے مخصوص کمرشل بجلی ٹیرف اور بجلی کے کنکشن کی تیز فراہمی جیسے اقدامات بھی پالیسی کا حصہ بتائے گئے ہیں۔ سرکاری و نجی شراکت داری اور بعض منصوبوں کے لیے viability gap funding جیسے مالی طریقوں کو بھی زیر غور رکھا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد چارجنگ انفراسٹرکچر میں حکومتی وسائل کے ساتھ نجی سرمائے کو شامل کرنا ہے۔
پالیسی صرف چارجنگ تک محدود نہیں بلکہ استعمال کی مدت پوری کرنے والی برقی گاڑیوں کی بیٹریوں، بالخصوص لیتھیم آئن بیٹریوں، کی جمع آوری، نقل و حمل، دوبارہ استعمال، dismantling اور recycling کے لیے بھی ضابطہ جاتی فریم ورک بنانے کی بات کرتی ہے۔ وزارت کے مطابق ملک گیر بیٹری collection اور recycling نیٹ ورک کے لیے کام جاری ہے۔
تین ہزار چارجنگ سہولتوں کا عدد 2030 تک کا پالیسی ہدف ہے، مکمل شدہ اسٹیشنوں کی موجودہ تعداد نہیں۔ منصوبے کی عملی رفتار نجی سرمایہ کاری، بجلی کے کنکشن، مقام کے انتخاب، ضابطہ سازی اور مالی انتظامات سے مشروط ہوگی۔ اسی لیے ہدف اور عملی تکمیل میں فرق کو واضح رکھنا ضروری ہے۔

