کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس کی بڑھتی ہیکنگ پر صارفین کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ کراچی زون کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ عرصے میں کاروباری اکاؤنٹس کے سمجھوتہ ہونے کی شکایات میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور صارفین کو اپنے اکاؤنٹس کی سکیورٹی پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق این سی سی آئی اے کراچی نے گزشتہ 15 روز میں شہریوں کے واٹس ایپ، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے 39 اکاؤنٹس بحال کیے۔ ادارے نے یہ بھی بتایا کہ مالی فراڈ میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے 95 اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں۔ ان اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی تحقیقاتی معلومات کی بنیاد پر کی گئی، تاہم ہر معاملے میں حتمی قانونی ذمہ داری متعلقہ تفتیش اور عدالتی عمل سے طے ہوگی۔
شہزاد اکبر کے مطابق جعلی شناخت کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے 38 اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے صارفین کو خاص طور پر واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس کے تحفظ کے بارے میں خبردار کیا، کیونکہ ایسے اکاؤنٹس کاروباری رابطوں، صارفین کے نمبروں اور بعض اوقات مالی معاملات سے منسلک ہوتے ہیں اور ان تک غیر مجاز رسائی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
این سی سی آئی اے کا انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر قبضہ، جعلی شناخت، مالی دھوکا دہی اور آن لائن ہراسانی سائبر کرائم اداروں کے لیے اہم تحقیقاتی شعبے بن چکے ہیں۔ کسی اکاؤنٹ کی بحالی یا بلاکنگ خود بخود کسی شخص کے جرم کی حتمی عدالتی تصدیق نہیں ہوتی، بلکہ یہ تحقیقاتی یا حفاظتی اقدام ہو سکتا ہے۔
صارفین کے لیے بنیادی احتیاط میں اکاؤنٹ کی دو مرحلہ جاتی تصدیق فعال رکھنا، غیر متوقع لاگ اِن یا تصدیقی کوڈ کسی دوسرے شخص کو نہ دینا، مشکوک لنکس سے گریز کرنا اور اکاؤنٹ سے منسلک ای میل و فون نمبر کو محفوظ رکھنا شامل ہے۔ کاروباری اکاؤنٹس استعمال کرنے والے اداروں کے لیے عملے کی رسائی محدود اور باقاعدگی سے جانچنا بھی اہم ہے۔
این سی سی آئی اے نے پریس کانفرنس میں دیگر سائبر جرائم سے متعلق کارروائیوں کا بھی ذکر کیا، لیکن واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس کی ہیکنگ پر جاری انتباہ براہ راست کاروباری اور عام صارفین دونوں سے متعلق ہے۔ ادارے کے فراہم کردہ اعداد کے مطابق مختصر مدت میں متعدد اکاؤنٹس کی بحالی اور بلاکنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آن لائن اکاؤنٹ سکیورٹی کے معاملات پر تحقیقاتی سرگرمی جاری ہے۔

