لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں تفتیشی عملے کی شدید کمی کو بڑھتے ہوئے سائبر کرائم مقدمات کی مؤثر تحقیقات میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے اٹھائیں گے۔ انہوں نے لاہور میں NCCIA کے ہیڈکوارٹرز کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں ادارے پر مقدمات کے بڑھتے بوجھ کا ذکر کیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق سائبر کرائم کی ہزاروں شکایات اور مقدمات سامنے آ رہے ہیں اور بعض معاملات میں ہفتوں یا مہینوں کے بجائے چند دنوں میں فیصلے اور کارروائی درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایک تفتیشی افسر کے پاس تین سے چار ہزار مقدمات ہوں تو مؤثر تحقیقات کیسے ممکن ہوں گی۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں دس ہزار روپے سے لے کر لاکھوں اور کروڑوں روپے تک کی مالی لین دین بھی رپورٹ ہوتی ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ تقریباً 14 کروڑ آبادی والے پنجاب میں NCCIA کے صرف 61 افسر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون بھی بڑھا رہی ہے اور متعلقہ سفارت خانوں سے روزانہ کی بنیاد پر رابطہ رکھا جا رہا ہے۔ تاہم ادارے کی مقامی تفتیشی صلاحیت میں افرادی قوت کی کمی فوری انتظامی توجہ کی متقاضی ہے۔
وزیر داخلہ نے بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کو آن لائن بلیک میلنگ سے محفوظ رکھنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق حکام کے سامنے ایسے متعدد کیس آتے ہیں جن میں ذاتی تصاویر شیئر کرنے کے بعد متاثرہ افراد کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شہریوں، خصوصاً نوجوان خواتین، کو ذاتی تصاویر آن لائن شیئر کرنے میں احتیاط کی تلقین کی۔
NCCIA ملک میں سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم خصوصی وفاقی ادارہ ہے اور اس پر آن لائن فراڈ، بلیک میلنگ اور دیگر ڈیجیٹل جرائم سے متعلق شکایات کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ وزیر داخلہ کا بیان افرادی قوت کی کمی کی سرکاری سطح پر نشاندہی ہے؛ اضافی بھرتیوں، بجٹ یا افسران کی نئی تعداد کے بارے میں اس موقع پر کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے مسئلے کے حل کی عملی شکل وزیراعظم اور متعلقہ وفاقی اداروں کے آئندہ فیصلوں سے واضح ہوگی۔

