اسلام آباد میں پاکستان اور چین نے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور (CPIC) کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ اور دونوں ممالک کے میڈیا و سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
وزیر اطلاعات کے مطابق اس اقدام کا مقصد چین پاکستان اقتصادی راہداری کے معاشی اور بنیادی ڈھانچے کے تعاون کے ساتھ معلومات، میڈیا، تحقیق، کاروبار، ثقافت اور نوجوانوں کے روابط کو منظم انداز میں بڑھانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انفارمیشن کوریڈور چار بنیادی ستونوں پر کام کرے گا: میڈیا، کاروبار و انٹرپرائز، تھنک ٹینکس، اور ثقافت، سیاحت و نوجوان۔
میڈیا شعبے میں پاکستانی اور چینی اداروں پر مشتمل نیوز ایکسچینج ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے، جس میں 18 میڈیا تنظیموں کی شمولیت بتائی گئی۔ منصوبے کے تحت دوطرفہ تعاون سے متعلق معلومات کے تبادلے کے ساتھ فیکٹ چیکنگ کا ایک طریقہ کار بھی تشکیل دیا جائے گا تاکہ گمراہ کن یا غلط دعوؤں کی جانچ کی جا سکے۔ یہ نظام کس ادارہ جاتی ضابطے اور آزادانہ نگرانی کے تحت کام کرے گا، اس کی مکمل تفصیلات ابھی عوامی طور پر سامنے نہیں آئیں۔
کاروباری ستون کے تحت کراچی میں پہلا علاقائی دفتر کھولنے اور تجارت، سرمایہ کاری اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق معلومات کے لیے ایک ٹریڈ پورٹل تیار کرنے کی بات کی گئی ہے۔ تھنک ٹینک شعبے میں دونوں ممالک کے تحقیقی اداروں کے درمیان مشترکہ مکالمہ، تحقیق اور اشاعتوں کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔ ثقافت اور نوجوانوں کے حصے میں سنکیانگ اور گلگت بلتستان کو جوڑنے والے سیاحتی تصور، دوستی ریلی اور یونیورسٹی طلبہ پر مشتمل CPEC یوتھ ایمبیسیڈر پروگرام کا ذکر کیا گیا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ CPIC کا مقصد عوامی سطح پر باہمی سمجھ بوجھ اور ڈیجیٹل رابطوں کو مضبوط کرنا ہے۔ یہ منصوبہ کسی نئے اقتصادی راہداری منصوبے کا متبادل نہیں بلکہ اطلاعاتی اور سماجی تعاون کا الگ پلیٹ فارم ہے۔ اس کی کامیابی کا انحصار عملی پروگراموں، شریک اداروں کی کارکردگی، معلومات کی شفافیت اور دونوں ممالک کے میڈیا و تحقیقی اداروں کے مستقل تعاون پر ہوگا۔
