اسلام آباد: پاکستان اور چین نے چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور، یعنی سی پی آئی سی، کے نام سے ایک نئے چار نکاتی تعاون فریم ورک کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے دونوں ممالک میڈیا روابط، غلط معلومات کے تدارک، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ اور ڈیجیٹل و عوامی رابطوں کو زیادہ منظم شکل دینا چاہتے ہیں۔
بزنس ریکارڈر کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا اعلان اسلام آباد میں کیا گیا۔ حکام نے اسے پاکستان اور چین کے موجودہ تعلقات میں معلوماتی اور مواصلاتی تعاون کا ایک اضافی پلیٹ فارم قرار دیا۔ منصوبے کے چار بنیادی ستون میڈیا تعاون، غلط یا گمراہ کن معلومات کا مقابلہ، دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کی تشہیر، اور ڈیجیٹل رابطوں کے ساتھ عوامی سطح کے تبادلوں میں اضافہ ہیں۔
اس فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ اور متعلقہ اداروں کے درمیان مواد، معلومات اور پیشہ ورانہ روابط بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔ حکام کے مطابق مقصد یہ ہے کہ دوطرفہ منصوبوں اور اقتصادی تعاون سے متعلق معلومات زیادہ منظم انداز میں عوام تک پہنچیں اور ایسی اطلاعات کا جواب دیا جا سکے جنہیں دونوں حکومتیں غلط یا گمراہ کن سمجھتی ہیں۔
تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق ستون میں کاروباری مواقع، چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک سرگرمیوں اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط کو نمایاں کرنا شامل ہے۔ ڈیجیٹل رابطے کے حصے میں نئی ٹیکنالوجی اور معلوماتی پلیٹ فارمز کے ذریعے تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، جبکہ عوامی تبادلوں کا مقصد طلبہ، ماہرین، میڈیا اور دوسرے سماجی گروپوں کے رابطوں کو وسعت دینا بتایا گیا ہے۔
چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کو چین پاکستان اقتصادی راہداری سے الگ مگر معاون معلوماتی اقدام کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ دستیاب اعلان میں اسے کسی نئے فزیکل انفراسٹرکچر منصوبے یا مخصوص مالی حجم کی سرمایہ کاری قرار نہیں دیا گیا۔ اس کی عملی اہمیت آئندہ اس بات سے واضح ہوگی کہ چاروں ستونوں کے تحت کون سے مشترکہ پروگرام، ادارہ جاتی انتظامات اور قابل پیمائش سرگرمیاں شروع کی جاتی ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت اس تعاون فریم ورک کے باقاعدہ آغاز تک محدود ہے۔
