لاہور: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بچوں کے آن لائن جنسی استحصال کو پاکستان میں ایک سنگین تحفظِ اطفال اور بنیادی حقوق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے، مؤثر تحقیقات اور متاثرہ بچوں کے لیے جامع معاونت کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق کم رپورٹنگ، ادارہ جاتی رابطے کی کمزوری اور ناکافی حفاظتی اقدامات کے باعث متعدد واقعات سامنے ہی نہیں آتے۔
ایچ آر سی پی نے زور دیا کہ آن لائن جنسی استحصال کو محض سائبر کرائم کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ایسے واقعات بچوں کی عزت، سلامتی اور بنیادی حقوق کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ رپورٹ میں پولیس، بچوں کے تحفظ کے اداروں، سائبر کرائم تفتیش کاروں، استغاثہ اور عدلیہ کے درمیان مربوط طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ شکایات کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے احتساب کا عمل مؤثر ہو سکے۔
رپورٹ میں امریکی نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئٹڈ چلڈرن کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 2021 میں پاکستان سے منسلک مشتبہ بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے متعلق رپورٹس کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ تھی۔ تاہم ایچ آر سی پی کے حوالے سے پیش کیے گئے ان اعدادوشمار کو انفرادی متاثرین کی تعداد نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ یہ مشتبہ آن لائن سرگرمی سے متعلق رپورٹس ہیں اور ایک ہی معاملے سے متعدد رپورٹس بھی وابستہ ہو سکتی ہیں۔
کمیشن نے متاثرہ بچوں کے لیے قانونی مدد، نفسیاتی معاونت اور بحالی کی خدمات کو بھی ضروری قرار دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ صرف آگاہی مہمات کافی نہیں ہوں گی اور آن لائن پلیٹ فارمز، ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کو اپنی ذمہ داری واضح طور پر ادا کرنا ہوگی۔
رپورٹ میں 2025 میں مظفرگڑھ میں سامنے آنے والے ایک مبینہ کیس کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں کم از کم 50 بچوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے ذریعے جنسی استحصال کا الزام سامنے آیا تھا۔ چونکہ ایسے معاملات میں تحقیقات اور عدالتی عمل الگ مراحل ہیں، اس لیے رپورٹ میں بیان کردہ الزامات کو ثابت شدہ عدالتی نتائج کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ایچ آر سی پی کی سفارشات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ کمیشن کے مطابق مؤثر تحفظ کے لیے شکایت درج کرانے کے محفوظ ذرائع، تربیت یافتہ تفتیش، ڈیجیٹل شواہد کے درست استعمال، متاثرین کی رازداری اور بحالی کے نظام کو ایک ساتھ مضبوط کرنا ضروری ہے۔

