اسلام آباد: پاکستان نے کرپٹو کرنسی اور دیگر ورچوئل اثاثوں کے لیے باضابطہ ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری کا عمل تیز کر دیا ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل اثاثہ خدمات فراہم کرنے والوں کو لائسنسنگ، نگرانی، صارف تحفظ اور اینٹی منی لانڈرنگ قواعد کے تحت لانا ہے۔ حکومتی سطح پر جاری کام ایسے وقت ہو رہا ہے جب پاکستان میں کرپٹو کے استعمال اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری میں دلچسپی موجود ہے لیکن طویل عرصے تک اس شعبے کے لیے جامع قانونی نظام واضح نہیں رہا۔
مجوزہ نظام میں ڈیجیٹل اثاثہ پلیٹ فارمز، ایکسچینجز اور متعلقہ سروس فراہم کرنے والوں کے لیے رجسٹریشن یا لائسنسنگ کے تقاضے متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ ریگولیٹرز کے لیے بنیادی ترجیحات میں صارفین کے فنڈز کا تحفظ، مارکیٹ میں شفافیت، مشتبہ لین دین کی نگرانی، سائبر سکیورٹی اور مالی جرائم کی روک تھام شامل ہیں۔ حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ قواعد بین الاقوامی اینٹی منی لانڈرنگ معیار سے ہم آہنگ ہوں تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے غیر قانونی سرحد پار رقوم کی منتقلی کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
کرپٹو اثاثوں کی قیمت میں شدید اتار چڑھاؤ اور پلیٹ فارم ناکامیوں کے عالمی تجربات نے صارف تحفظ کو اہم پالیسی مسئلہ بنا دیا ہے۔ اسی لیے ریگولیٹری فریم ورک کا مقصد صرف صنعت کو قانونی راستہ فراہم کرنا نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کو خطرات سے آگاہ رکھنے، اثاثوں کی تحویل کے اصول واضح کرنے اور کمپنیوں کے مالی و انتظامی معیار مقرر کرنے سے بھی متعلق ہے۔ کسی پلیٹ فارم کو لائسنس ملنے کی صورت میں بھی کرپٹو سرمایہ کاری منافع کی ضمانت نہیں ہوگی اور مارکیٹ رسک برقرار رہے گا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ممکنہ استعمال میں سرمایہ کاری کے علاوہ سرحد پار ادائیگیاں، ٹوکنائزیشن اور بلاک چین پر مبنی مالی خدمات بھی زیر بحث رہی ہیں۔ تاہم ان مواقع کے ساتھ سرمایہ کے غیر قانونی اخراج، ٹیکس چوری، فراڈ اور صارفین کی شناخت سے متعلق خدشات بھی موجود ہیں۔ اسی لیے حکومت کو جدت کی حوصلہ افزائی اور مالیاتی نظام کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
فریم ورک کے حتمی قانونی اور ریگولیٹری تقاضے متعلقہ حکام کی منظوری اور جاری کیے جانے والے قواعد کے بعد واضح ہوں گے۔ موجودہ پیش رفت کو تمام کرپٹو سرگرمیوں کی غیر مشروط قانونی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا۔ صارفین اور کاروباروں کے لیے عملی ذمہ داریاں لائسنسنگ قواعد، ٹیکس پالیسی، مرکزی بینک کے ضوابط اور اینٹی منی لانڈرنگ تقاضوں کی حتمی شکل کے ساتھ طے ہوں گی۔

