مینلو پارک: فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا پلیٹ فارمز نے مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر بڑے اخراجات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے اپنے مجوزہ ایکویٹی فنڈ ریزنگ پروگرام کا حجم 97.5 ارب ڈالر تک بڑھا دیا ہے۔ کمپنی کے اعلان اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق موجودہ منصوبے میں عام حصص اور لازمی قابل تبدیلی ترجیحی حصص کی عوامی پیشکشوں کے ساتھ مستقبل میں مارکیٹ کے ذریعے مزید حصص فروخت کرنے کا پروگرام بھی شامل ہے۔
میٹا نے اپنی کلاس اے عام حصص کی پیشکش کا حجم 22.5 ارب ڈالر سے بڑھا کر 25 ارب ڈالر کیا اور قیمت 625 ڈالر فی شیئر مقرر کی۔ اس کے ساتھ 250 ملین ڈپازٹری شیئرز 50 ڈالر فی شیئر کے حساب سے رکھے گئے ہیں، جو مجموعی طور پر 12.5 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ کمپنی نے الگ سے 60 ارب ڈالر تک کا ایٹ دی مارکیٹ شیئر سیل پروگرام شروع کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔ یہ پروگرام نئی نان ووٹنگ کلاس سی حصص کی تجارت شروع ہونے کے بعد متوقع ہے، جو 2027 کی پہلی سہ ماہی میں ہو سکتی ہے، تاہم اس حصے کی حتمی مدت اور شرائط ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوئیں۔
میٹا کے مطابق نئی مالی گنجائش کا مقصد ڈیٹا سینٹرز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات اور ماڈلز کی توسیع ہے۔ کمپنی نے 2026 کے لیے 135 ارب سے 145 ارب ڈالر تک کے سرمایہ جاتی اخراجات کی توقع ظاہر کی ہے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ وہ ان ضروریات کو آپریٹنگ کیش فلو، سرمایہ کاری درجے کے قرض، اسٹریٹجک شراکت داری اور ایکویٹی سرمائے کے امتزاج سے پورا کرنا چاہتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق Nvidia، Advanced Micro Devices اور Broadcom نے کلاس اے حصص میں مجموعی طور پر پانچ ارب ڈالر تک دلچسپی ظاہر کی ہے۔ Nvidia نے الگ اعلان میں میٹا میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور Muse AI اسسٹنٹ و متعلقہ ماڈلز پر تعاون بڑھانے کی بات بھی کی ہے۔ ایسی باہمی سرمایہ کاری نے ٹیکنالوجی صنعت میں AI سپلائرز اور بڑے صارفین کے درمیان مالی روابط پر سرمایہ کاروں کی توجہ بڑھائی ہے۔
یہ تمام 97.5 ارب ڈالر فوری طور پر موصول شدہ نقد سرمایہ نہیں ہے۔ اس رقم میں موجودہ انڈر رائٹن پیشکشوں کے ساتھ مستقبل میں بتدریج فروخت کیے جانے والے حصص کی زیادہ سے زیادہ مجوزہ گنجائش بھی شامل ہے۔ اس لیے اسے مکمل شدہ فنڈ ریزنگ کے بجائے موجودہ اور منصوبہ بند ایکویٹی فنانسنگ کا مجموعی ممکنہ حجم سمجھا جائے گا۔ میٹا کی یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، ڈیٹا سینٹرز اور چپس کے لیے غیر معمولی سرمایہ خرچ کر رہی ہیں اور سرمایہ کار ان اخراجات سے مستقبل کی آمدن اور منافع کے تعلق پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

