کیوپرٹینو: ایپل نے اپنی نئی M6 چپ کے ساتھ 14 انچ MacBook Pro اور iMac متعارف کرا دیے ہیں، جن میں کمپنی نے مقامی طور پر مصنوعی ذہانت کے کام چلانے، گرافکس اور عمومی کمپیوٹنگ کی کارکردگی بڑھانے پر توجہ دی ہے۔ کمپنی کے مطابق دونوں نئے کمپیوٹرز کے پری آرڈر 28 اکتوبر سے 35 ممالک اور خطوں میں شروع ہوں گے جبکہ صارفین کو فراہمی اور اسٹورز میں دستیابی 6 نومبر سے ہوگی۔
نئے 14 انچ MacBook Pro میں 12 کور CPU، 12 کور GPU اور Dual 16-core Neural Engine دیا گیا ہے۔ ایپل کا کہنا ہے کہ M5 ماڈل کے مقابلے میں گرافکس کی کارکردگی 30 فیصد تک اور مصنوعی ذہانت سے متعلق workloads کی رفتار 25 فیصد تک بہتر ہو سکتی ہے۔ کمپنی نے بیٹری لائف 24 گھنٹے تک ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ اعداد ایپل کے اپنے ٹیسٹ اور مخصوص workloads پر مبنی ہیں، اس لیے حقیقی استعمال میں کارکردگی سافٹ ویئر، کنفیگریشن اور کام کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
M6 iMac میں بھی 12 کور تک CPU اور GPU دستیاب ہوگا اور Neural Accelerators کو GPU cores میں شامل کیا گیا ہے۔ ایپل کے مطابق نئی مشین M4 پر مبنی سابقہ iMac کے مقابلے میں بعض آن ڈیوائس AI کاموں میں پانچ گنا تک تیز ہو سکتی ہے۔ iMac میں Wi‑Fi 7، Bluetooth 6، اختیاری 2.5 گیگابٹ ایتھرنیٹ، 24 انچ 4.5K Retina ڈسپلے اور چار Thunderbolt 4 پورٹس تک کی سہولت شامل ہے۔ کمپنی اسے سات رنگوں میں پیش کر رہی ہے۔
ایپل کی حکمت عملی میں آن ڈیوائس AI کی اہمیت بڑھ رہی ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے کام کلاؤڈ ڈیٹا سینٹرز کے ساتھ صارف کے اپنے کمپیوٹر پر بھی چلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مقامی پروسیسنگ سے بعض کاموں میں تاخیر کم اور رازداری بہتر ہو سکتی ہے، تاہم بڑے ماڈلز کے لیے میموری، توانائی اور کمپیوٹنگ طاقت کی حدود برقرار رہتی ہیں۔ نئی مشینیں macOS 27 اور ایپل کے AI فیچرز کے ساتھ کام کریں گی۔
امریکا میں 14 انچ M6 MacBook Pro کی ابتدائی قیمت 1,999 ڈالر جبکہ M6 iMac کی ابتدائی قیمت 1,499 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ قیمتیں مختلف ملکوں، ٹیکسوں اور کنفیگریشن کے مطابق تبدیل ہوں گی۔ نئے ماڈلز ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایپل، مائیکروسافٹ، Nvidia اور دوسرے ادارے ذاتی کمپیوٹنگ میں AI workloads کو مقامی سطح پر چلانے کے لیے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کی نئی نسل متعارف کرا رہے ہیں۔

