اسلام آباد: چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور (سی پی آئی سی) کا پاکستان چائنا فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے میڈیا، تحقیقی اداروں، کاروباری حلقوں، جامعات اور نوجوانوں کو معلومات کے تبادلے اور باہمی رابطے کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ چین پاکستان تعلقات کی تاریخی روایت کو نئی نسلوں تک منتقل کرنا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق انفارمیشن کوریڈور میڈیا، معلوماتی تبادلے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عوامی سطح پر رابطے اور باہمی فہم کو مضبوط بنانے کے لیے کام کرے گا۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کوریڈور کے تجارتی ستون کا پہلا علاقائی دفتر کراچی میں قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سی پی آئی سی کے چار بنیادی شعبے میڈیا، کاروبار و انٹرپرائز، تھنک ٹینکس، اور ثقافت، سیاحت و نوجوان قرار دیے۔ سرکاری بیان کے مطابق میڈیا کے شعبے میں پاکستانی اور چینی اداروں کے درمیان تصدیق شدہ خبروں کے تبادلے اور غلط معلومات کے مقابلے کے لیے فیکٹ چیکنگ کے طریقہ کار کو فروغ دینے کا منصوبہ ہے۔

کاروبار اور انٹرپرائز کا شعبہ تجارت اور سرمایہ کاری کے روابط پر توجہ دے گا، جبکہ تھنک ٹینک ستون مشترکہ تحقیق، مکالمے اور اشاعتوں کے ذریعے دوطرفہ مباحث کو وسعت دینے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں کے شعبے کے تحت عوامی رابطوں اور نوجوانوں کے تبادلوں کے مواقع بڑھانے کی بات کی گئی ہے۔

تقریب میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ انفارمیشن کوریڈور معلومات کے اشتراک اور ایک دوسرے کی ثقافت و روایات کو بہتر سمجھنے میں مدد دے گا۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے اپنے پیغام میں غلط اور گمراہ کن معلومات کے بڑھتے چیلنج کے تناظر میں درست اور بروقت معلومات کی اہمیت پر زور دیا۔

سیکریٹری اطلاعات و نشریات اشفاق احمد خلیل نے اس اقدام کو میڈیا، اکیڈمیا، کاروبار اور نوجوانوں کو جوڑنے والا پلیٹ فارم قرار دیا۔ حکام کے مطابق موجودہ نیوز ایجنسیوں، نشریاتی اداروں اور دیگر اداروں کے باہمی معاہدوں کو بھی اس تعاون کی بنیاد کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ یہ اعلان کوریڈور کے آغاز اور اس کے بیان کردہ مقاصد سے متعلق ہے؛ اس کے عملی نتائج، منصوبوں کی پیش رفت اور اثرات کا تعین آئندہ نفاذ سے ہوگا۔