اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سینیٹ کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان میں قومی مصنوعی ذہانت ایکوسسٹم کی تشکیل پر کام جاری ہے اور 2030 تک اس شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ مجوزہ ایکوسسٹم میں اے آئی انفراسٹرکچر، انسانی وسائل کی تیاری، تحقیق، اسٹارٹ اپس، فنانسنگ اور ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کی گورننس کو ایک مربوط فریم ورک میں شامل کیا جا رہا ہے۔

وزیر کے مطابق نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس ایکوسسٹم ڈیولپمنٹ پروگرام حکومت کی آئندہ اہم مداخلتوں میں شامل ہے۔ اس پروگرام کا ہدف صرف کمپیوٹنگ سہولتیں قائم کرنا نہیں بلکہ ایسی صلاحیت پیدا کرنا ہے جس کے ذریعے تعلیمی ادارے، محققین، کاروباری ادارے اور نئے ٹیکنالوجی منصوبے مصنوعی ذہانت کو عملی شعبوں میں استعمال کر سکیں۔ حکومت نیشنل اے آئی ایڈوانسمنٹ انیشی ایٹو پر بھی عمل درآمد کر رہی ہے، جس کا مقصد اے آئی اپنانے کی رفتار بڑھانا اور عملی مہارت پیدا کرنا بتایا گیا ہے۔

ایوان میں ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے چین کی قیادت میں قائم ورلڈ اے آئی کوآپریشن آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً پچاس ارکان اس تنظیم سے وابستہ ہو چکے ہیں، پاکستان نے اس کی بانی دستاویز پر دستخط کیے ہیں اور تنظیم کا صدر دفتر شنگھائی میں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی پہلی کونسل میٹنگ دسمبر کے وسط میں متوقع ہے۔

حکومتی بریفنگ میں اے آئی کے لیے مالی وسائل کے ساتھ ذمہ دارانہ گورننس کو بھی ایک بنیادی جزو کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے پیمانے پر استعمال کے ساتھ ڈیٹا تحفظ، شفافیت، الگورتھمک احتساب، سائبر سکیورٹی اور انسانی نگرانی جیسے معاملات اہم پالیسی سوالات بن جاتے ہیں۔ سرکاری بیان میں ایک ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کا اعلان تو کیا گیا، تاہم اس رقم کی سال بہ سال تقسیم، سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کے تناسب یا مخصوص منصوبوں کے بجٹ کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی۔

پاکستان کی ٹیکنالوجی پالیسی میں اے آئی کو بڑھتی ہوئی اہمیت ایسے وقت مل رہی ہے جب دنیا بھر میں حکومتیں کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت اور تحقیق کے لیے بڑے پروگرام متعارف کرا رہی ہیں۔ حکومت کے اعلان کے عملی نتائج کا انحصار فنڈنگ کے اجرا، ادارہ جاتی نفاذ، ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی اور واضح ضابطہ جاتی نظام پر ہوگا۔ سینیٹ میں دی گئی معلومات فی الحال حکومتی پروگرام اور اعلان کردہ سرمایہ کاری کے فریم ورک کی عکاسی کرتی ہیں، نہ کہ تمام منصوبوں کی تکمیل کی ضمانت۔