ہانگ کانگ: چین کے سکیورٹیز ریگولیٹر نے کہا ہے کہ وہ اہل چینی کمپنیوں کو ہانگ کانگ میں حصص لسٹ کرنے کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔ رائٹرز کے مطابق یہ بیان 3 نومبر کو ہانگ کانگ میں عالمی مالیاتی رہنماؤں کے ایک سرمایہ کاری اجلاس کے دوران سامنے آیا اور اسے چین کی سرحد پار سرمایہ منڈیوں کے روابط مضبوط کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
چائنا سکیورٹیز ریگولیٹری کمیشن کے موقف کے مطابق ہانگ کانگ چینی کمپنیوں کے لیے بین الاقوامی سرمایہ تک رسائی کا ایک اہم مرکز ہے۔ مین لینڈ کی کمپنیاں ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے عالمی ادارہ جاتی اور انفرادی سرمایہ کاروں سے سرمایہ حاصل کر سکتی ہیں، جبکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو چینی کاروباروں میں سرمایہ کاری کا نسبتاً مانوس قانونی اور مالیاتی پلیٹ فارم ملتا ہے۔
ریگولیٹر کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر درخواست خودکار طور پر منظور ہوگی۔ بیرونِ مین لینڈ حصص جاری کرنے والی کمپنیوں کو چین کے متعلقہ قواعد، ڈیٹا اور قومی سلامتی سے متعلق تقاضوں، ہانگ کانگ کے لسٹنگ ضوابط اور مالی انکشافات کی شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ اس لیے ہر آئی پی او کا وقت اور حجم کمپنی کی تیاری اور ریگولیٹری جائزے پر منحصر رہتا ہے۔
ہانگ کانگ حالیہ برسوں میں بڑے چینی آئی پی اوز اور ثانوی لسٹنگز کے لیے اہم مقام رہا ہے۔ عالمی شرح سود، چین کی اقتصادی رفتار اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے متعلق ریگولیٹری تبدیلیوں کے باعث نئی لسٹنگز میں اتار چڑھاؤ آیا، تاہم پالیسی ساز شہر کی سرمایہ اکٹھا کرنے کی صلاحیت اور بین الاقوامی مالیاتی کردار کو برقرار رکھنے پر زور دیتے رہے ہیں۔
چینی حکام مین لینڈ اور ہانگ کانگ کی منڈیوں کے درمیان اسٹاک کنیکٹ جیسے پروگراموں کو بھی وسعت دیتے آئے ہیں۔ ان انتظامات کے ذریعے مخصوص شرائط کے تحت دونوں جانب کے سرمایہ کار ایک دوسرے کی منڈیوں میں حصص خرید سکتے ہیں۔ مزید کمپنیوں کی ہانگ کانگ لسٹنگ اس نظام میں دستیاب سرمایہ کاری کے انتخاب کو بڑھا سکتی ہے۔
آئندہ مہینوں میں اس پالیسی کے اثر کا اندازہ نئی لسٹنگ درخواستوں، مکمل ہونے والے آئی پی اوز اور ان میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی شرکت سے ہوگا۔ ریگولیٹر نے حمایت کا عمومی رخ واضح کیا ہے، لیکن کسی ایک کمپنی کی منظوری، قیمت یا سرمایہ اکٹھا کرنے کی ضمانت نہیں دی۔

