چین کی روبوٹ صنعت میں مشینیں فروخت کرنے کے ساتھ انہیں کرائے پر دینے کا رجحان تیزی سے سامنے آ رہا ہے۔ دی نیشن کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں ہونے والی ورلڈ روبوٹ کانفرنس میں متعدد کمپنیوں نے ایسے ماڈل پیش کیے جن میں صارف مہنگی مشین خریدنے کے بجائے ماہانہ یا استعمال کے حساب سے ادائیگی کرتا ہے۔ اس طریقے کا مقصد صرف ابتدائی قیمت کم کرنا نہیں بلکہ تنصیب، دیکھ بھال اور مسلسل بدلتی ٹیکنالوجی کا خطرہ بھی فراہم کنندہ کے پاس رکھنا ہے۔

رپورٹ میں شنگھائی کی فیوچرنگ روبوٹ نامی کمپنی کی مثال دی گئی ہے جو بیس ہزار یوآن سے زیادہ لاگت والے گھریلو خدماتی روبوٹ کو تین ہزار یوآن، یعنی تقریباً 446 ڈالر، ماہانہ پر دیتی ہے۔ کمپنی نے ابتدا میں ایک روزہ آزمائش اور تقریباً سات سو یوآن کے ہفتہ وار پیکیج پیش کیے تھے، پھر ماہانہ ماڈل اختیار کیا۔ بکنگ دسمبر تک پہنچنے کے باعث فی الحال ایک صارف کو ایک ماہ سے زیادہ کا طویل معاہدہ نہیں دیا جا رہا تاکہ ایک ہی مشین زیادہ گھروں تک پہنچ سکے۔

چینی قومی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے سات ماہ میں ملک نے 635,056 صنعتی روبوٹ تیار کیے، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 28.5 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی مدت میں خدماتی روبوٹ کی پیداوار 12.14 ملین یونٹس رہی اور اس میں 12.2 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد پیداوار کی رفتار دکھاتے ہیں، مگر کسی مخصوص کرایہ اسکیم کی کامیابی یا منافع کی ضمانت نہیں ہیں۔

شنگھائی پودونگ حکومت کے جاری کردہ اعداد میں چین کی روبوٹ رینٹل مارکیٹ 2025 میں ایک ارب یوآن سے زیادہ بتائی گئی، جبکہ آئی آئی میڈیا ریسرچ نے رواں سال اس کے دس ارب یوآن سے تجاوز کرنے کی پیش گوئی کی ہے۔ مؤخر الذکر عدد ایک تحقیقی تخمینہ ہے، حتمی مارکیٹ نتیجہ نہیں۔ اسی لیے صنعت کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ پیداواری صلاحیت کو مستقل اور معاشی طور پر قابل عمل استعمال میں کیسے بدلا جائے۔

ہوٹلوں کے لیے روبوٹ کرائے پر دینے والی کمپنیاں مشین کے ساتھ عمارت کی نقشہ بندی، لفٹ سے رابطہ، تنصیب اور مرمت بھی فراہم کرتی ہیں۔ یوں ہوٹل کو خود روبوٹ آپریٹر بننے کے بجائے ایک مکمل خدمت ملتی ہے۔ اس تصور کو روبوٹ ایز اے سروس کہا جاتا ہے، جس میں ادائیگی مشین کی ملکیت کے بجائے مکمل ہونے والے کام، استعمال کے وقت یا آپریٹنگ لیز سے منسلک ہوسکتی ہے۔

چینی صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت اور ریاستی اثاثہ جات کی نگران اتھارٹی نے جون میں حقیقی ماحول میں ہیومنائیڈ اور ایمبوڈیڈ انٹیلیجنس سسٹمز کی جانچ، حفاظت، کارکردگی اور معاشی افادیت پر زور دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پالیسی میں استعمال کے حساب سے ادائیگی اور آپریٹنگ لیز کی حوصلہ افزائی بھی شامل ہے۔ بیجنگ اکنامک ٹیکنالوجیکل ڈیولپمنٹ ایریا کی ایک اسکیم اہل منصوبوں کے کرایہ اخراجات کا دس فیصد، زیادہ سے زیادہ تیس لاکھ یوآن فی ادارہ سالانہ، سبسڈی دینے کی بات کرتی ہے۔

گھروں میں کرایہ ماڈل کا ایک اور مقصد مختلف ماحول سے عملی تجربہ حاصل کرنا ہے۔ فرنیچر، بچوں، پالتو جانوروں اور روزمرہ بے ترتیبی کے باعث ایک روبوٹ کی کارکردگی نمائش گاہ سے مختلف ہوسکتی ہے۔ تاہم حقیقی گھروں سے ڈیٹا جمع کرنے کے منصوبوں میں رازداری، رضامندی اور ڈیٹا کے استعمال کی واضح شرائط بنیادی اہمیت رکھتی ہیں؛ دی نیشن کی رپورٹ میں کسی جامع صارف رازداری فریم ورک کی تفصیل نہیں دی گئی۔

یہ تجربات ابھی چین کی بڑی پیداواری صنعت کے مقابلے میں محدود ہیں۔ کرایہ لینے سے صارف کے لیے ابتدائی رکاوٹ کم ہوسکتی ہے، مگر مشین کی قابل اعتماد کارکردگی، حفاظت، دیکھ بھال، بیمہ اور طویل مدتی لاگت ہی طے کریں گے کہ روبوٹ کرایہ ایک پائیدار کاروباری ماڈل بنتا ہے یا عارضی آزمائش رہتا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک