بیجنگ: چین کی معیشت نے 2026 کی تیسری سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 4.5 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی ہے، جو مارکیٹ کی عمومی توقعات سے قدرے بہتر رہی۔ رائٹرز کے مطابق تازہ سرکاری اعداد نے ایسے وقت عالمی سرمایہ کاروں کو کچھ سہارا دیا جب ایشیائی حصص مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر پر بڑھتے اخراجات اور مہنگی فنانسنگ سے متعلق خدشات کے باعث دباؤ میں تھے۔
جولائی سے ستمبر کی مدت کی شرح نمو نے یہ اشارہ دیا کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت متعدد اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باوجود حکومت کے سالانہ ہدف کے قریب رفتار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنوری سے ستمبر کے عرصے میں مجموعی اقتصادی نمو 4.6 فیصد رہی، جو حکومت کے 4.5 سے 5 فیصد کے سالانہ ہدف کی حد میں ہے۔
تازہ اعداد میں صارفین کے خرچ سے متعلق ریٹیل سیلز میں 1.1 فیصد اضافہ رپورٹ ہوا، جبکہ صنعتی پیداوار کی نمو 5.5 فیصد رہی۔ دونوں اشاریے چین کی اندرونی طلب اور مینوفیکچرنگ کی حالت سمجھنے کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ ریٹیل سیلز کی رفتار محدود رہی، صنعتی پیداوار نے نسبتاً مضبوط کارکردگی دکھائی۔
اعداد جاری ہونے کے بعد چینی بلیو چپ حصص نے ابتدائی نقصانات کا کچھ حصہ پورا کیا، جبکہ یوآن مضبوط ہو کر جولائی 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح کے قریب پہنچا۔ تاہم ایشیا کی وسیع منڈیوں پر ٹیکنالوجی شعبے کے بھاری سرمایہ جاتی اخراجات، بانڈ ییلڈز اور کارپوریٹ قرض کی لاگت سے متعلق خدشات غالب رہے۔
چین کی اقتصادی کارکردگی عالمی تجارت، خام مال، توانائی اور ایشیائی برآمدی معیشتوں کے لیے اہم ہے۔ بہتر نمو عالمی طلب کے لیے مثبت اشارہ ہو سکتی ہے، لیکن ایک سہ ماہی کا عدد مستقبل کی رفتار کی ضمانت نہیں دیتا۔ جائیداد کے شعبے، گھریلو طلب، تجارتی تناؤ اور عالمی مالی حالات جیسے عوامل آنے والی سہ ماہیوں میں اہم رہیں گے۔
سرکاری ہدف کی حد میں نو ماہ کی نمو بیجنگ کے لیے نسبتاً حوصلہ افزا ہے، تاہم سال کے آخری حصے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ صارفین کا خرچ اور نجی سرمایہ کاری کس حد تک بحال ہوتے ہیں۔ موجودہ اعداد معاشی سرگرمی میں بہتری کی علامت ضرور ہیں، مگر انہیں وسیع اور پائیدار بحالی کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

