حکومت نے وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت ہاؤسنگ فنانس حاصل کرنے والوں کے لیے جائیداد سے متعلق دستاویزی تقاضوں کو آسان بناتے ہوئے بینکوں کی لازمی دستاویزات پانچ تک محدود اور معیاری کردی ہیں۔ وزارت ہاؤسنگ و ورکس کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بینکوں کو باضابطہ ہدایات جاری کردی ہیں۔

وزارت کے مطابق نظرثانی شدہ تقاضوں میں ٹرانسفر اور پوزیشن لیٹر، سائٹ پلان، مارگیج کی اجازت سے متعلق خط اور مارگیج رجسٹریشن سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ اس تبدیلی کا مقصد قرض کی درخواست کا عمل سادہ کرنا، غیر ضروری کاغذی کارروائی کم کرنا اور گھر تعمیر یا خریدنے کے خواہش مند افراد کے لیے ہاؤسنگ فنانس تک رسائی بہتر بنانا ہے۔

حکام کے مطابق ماضی میں درخواست گزاروں کی جانب سے شکایات موصول ہوئی تھیں کہ مختلف بینک بڑی تعداد میں دستاویزات طلب کرتے ہیں، جس سے قرض کے حصول میں تاخیر اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ نئی معیاری فہرست کا مقصد مختلف بینکوں اور جائیداد کی اقسام کے درمیان دستاویزی تقاضوں میں زیادہ یکسانیت پیدا کرنا ہے۔

اپنا گھر پروگرام کو وزارت ہاؤسنگ و ورکس کی ملک گیر ہاؤسنگ فنانس اسکیم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق پروگرام میں گھر کی تعمیر کے لیے ایک کروڑ روپے تک قرض کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم قرض کی حتمی منظوری بینک کی کریڈٹ جانچ، درخواست گزار کی اہلیت، جائیداد کی قانونی حیثیت اور دیگر قابل اطلاق مالی قواعد سے مشروط رہتی ہے؛ صرف دستاویزات کی تعداد کم ہونے سے قرض کی منظوری خودکار نہیں ہوجاتی۔

دستیاب سرکاری تفصیلات کے مطابق مختلف شہری و دیہی جائیدادیں، ہاؤسنگ سوسائٹیز، ڈی ایچ اے، کنٹونمنٹ اور دیگر تسلیم شدہ پراپرٹی کیٹیگریز فنانسنگ کے دائرے میں آسکتی ہیں۔ پنجاب حکومت کے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا دیگر صوبوں کے مساوی سرٹیفکیٹ کے حامل کیسز میں ملکیت اور قبضے کی تصدیق کی وجہ سے اضافی تاریخی ملکیتی دستاویزات کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔ نئی ہدایات کا عملی نفاذ بینکوں اور ڈی ایف آئیز کی متعلقہ پروسیسنگ میں سامنے آئے گا۔