اسلام آباد: چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم بجلی منصوبوں کے مرکزی پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی، یعنی سی پی پی اے-جی، پر تقریباً 498 ارب روپے کے واجبات باقی ہیں۔ بزنس ریکارڈر نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث یہ واجبات مکمل طور پر ادا نہیں کیے جا سکے، جس سے سی پیک توانائی منصوبوں کی ادائیگیوں کا مسئلہ دوبارہ نمایاں ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ رقم مختلف چینی سرمایہ کاری والے پاور پراجیکٹس کو بجلی کی خریداری اور متعلقہ مالی ذمہ داریوں کے تحت ادا کی جانی ہے۔ پاکستان کے بجلی شعبے میں گردشی قرض، وصولیوں کی کمزوری، لائن لاسز اور حکومتی سبسڈی سے متعلق مسائل طویل عرصے سے نقد بہاؤ پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں۔ اسی مالی زنجیر میں سی پی پی اے-جی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے خریداری اور تقسیم کار اداروں کے درمیان ادائیگیوں کا مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
498 ارب روپے کے واجبات کا حجم پاکستان اور چین کے درمیان توانائی تعاون کے لیے اہم ہے کیونکہ سی پیک کے متعدد منصوبے ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں حصہ رکھتے ہیں۔ بروقت ادائیگی نہ ہونے سے منصوبوں کی آپریشنل نقد ضروریات، قرض کی ادائیگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، اگرچہ رپورٹ میں کسی منصوبے کی فوری بندش یا پیداوار روکنے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
پاکستانی حکام ماضی میں چینی کمپنیوں کے بقایاجات کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے خصوصی ادائیگی انتظامات، گردشی قرض کم کرنے اور بجلی شعبے میں اصلاحات کی بات کرتے رہے ہیں۔ تاہم تازہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ واجبات کا بڑا حصہ اب بھی موجود ہے۔ اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ حکومت یا سی پی پی اے-جی 498 ارب روپے کی پوری رقم کس شیڈول کے تحت ادا کرے گی۔
توانائی شعبے کی مالی پائیداری پاکستان کے وسیع اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے سے بھی جڑی ہے۔ بجلی کی قیمت، نقصانات، وصولیوں اور سرکاری مالی معاونت کے فیصلے براہ راست گردشی قرض کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے سی پیک منصوبوں کے واجبات محض دوطرفہ سرمایہ کاری کا معاملہ نہیں بلکہ ملک کے پاور سیکٹر کی مجموعی مالی صحت کا بھی اہم اشاریہ ہیں۔
بزنس ریکارڈر کی خبر ذرائع پر مبنی ہے اور اس میں سی پی پی اے-جی کی مالی مشکلات کو واجبات کی عدم ادائیگی کی بنیادی وجہ بتایا گیا ہے۔ ادائیگیوں کے حتمی شیڈول یا نئی سرکاری مالی سہولت کے بارے میں کسی باضابطہ فیصلے کی تصدیق سامنے آنے تک اسے زیرِ حل مالی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے گا۔

