پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن، پی سی جی اے، کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 15 اکتوبر 2026 تک کپاس کی آمد 40 لاکھ 81 ہزار 265 گانٹھوں تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کی 37 لاکھ 95 ہزار 637 گانٹھوں کے مقابلے میں 7.53 فیصد زیادہ ہے۔ سالانہ بنیاد پر اضافہ 2 لاکھ 85 ہزار 628 گانٹھوں کا بنتا ہے۔

صوبائی سطح پر پنجاب میں 16 لاکھ 38 ہزار 497 گانٹھیں موصول ہوئیں، جو گزشتہ سال سے 7.79 فیصد زیادہ ہیں۔ سندھ میں کپاس کی آمد 24 لاکھ 42 ہزار 768 گانٹھیں رہی اور سالانہ اضافہ 7.35 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ پنجاب میں بہاولنگر 4 لاکھ 18 ہزار 750 گانٹھوں کے ساتھ نمایاں رہا، جبکہ بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور لیہ بھی بڑے پیداواری اضلاع میں شامل رہے۔

سندھ میں سانگھڑ 11 لاکھ 37 ہزار 903 گانٹھوں کے ساتھ سب سے آگے رہا۔ اس کے بعد سکھر، نوشہرو فیروز اور خیرپور نمایاں رہے۔ ملک بھر میں 471 جننگ فیکٹریاں فعال بتائی گئیں۔ ٹیکسٹائل ملوں نے تقریباً 34 لاکھ 52 ہزار گانٹھیں خریدیں جبکہ برآمد کنندگان اور تاجروں نے بھی خریداری کی، جس کے بعد غیر فروخت شدہ ذخیرہ 5 لاکھ 31 ہزار 530 گانٹھیں بتایا گیا۔

اگرچہ مجموعی آمد میں اضافہ ہوا ہے، صنعت کے نمائندوں نے پیداواری لاگت، درآمدی یارن اور فیبرک اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم کے مبینہ غلط استعمال کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔ بعض صنعت نمائندوں کا دعویٰ ہے کہ درآمد شدہ خام یا نیم تیار مال، جو دوبارہ برآمد ہونا چاہیے، مقامی منڈی میں فروخت ہو رہا ہے۔ یہ الزامات متعلقہ صنعت نمائندوں کے ہیں اور کسی مخصوص فریق کی خلاف ورزی کا حتمی قانونی فیصلہ نہیں ہیں۔

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے کہا ہے کہ صرف گانٹھوں کی تعداد کے بجائے کسان کی فی ایکڑ خالص آمدن، پیداواری لاگت، مارکیٹ تک رسائی اور روئی کے معیار کو بھی پالیسی کا مرکز بنانا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق چنائی کے مزید دن باقی ہیں، اس لیے حتمی سیزن پیداوار موجودہ آمد کے اعداد سے مختلف ہوسکتی ہے۔