بیجنگ: ٹائیفون سوڈیل کی شدید بارشوں نے چین کے جنوب مشرقی ساحلی علاقوں میں سیلاب، آمدورفت میں خلل اور بڑے پیمانے پر حفاظتی انخلا کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ اور رائٹرز کے مطابق فوجیان اور گوانگ ڈونگ کے مختلف حصوں میں سڑکیں زیر آب آئیں، گاڑیاں پانی میں پھنسیں اور بعض مقامات پر عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ فوجیان میں 83 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیے جانے کی اطلاع دی گئی، جبکہ اگست کے آخر سے ژی جیانگ اور ملحقہ علاقوں سمیت وسیع خطے میں منتقل کیے گئے لوگوں کی مجموعی تعداد کئی لاکھ بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد مقامی اور سرکاری حکام سے منسوب ہیں اور بدلتی ہنگامی صورت حال کے ساتھ ان میں نظرثانی ہو سکتی ہے۔

چین کے محکمہ موسمیات کے مطابق سوڈیل نے جمعرات کو فوجیان میں دوبارہ طاقت پکڑنے کے بعد تیسری مرتبہ خشکی کو عبور کیا۔ یہ رواں سال چین سے ٹکرانے والا ساتواں ٹائیفون بتایا گیا ہے۔ ژی جیانگ کے یوہوان علاقے میں دو ماہ سے کم مدت کے دوران یہ تیسرا سمندری طوفان تھا، جسے محکمہ موسمیات نے غیر معمولی سلسلہ قرار دیا۔ بعض ماہرین نے بحرالکاہل کے گرم سمندری حالات اور طاقتور ایل نینو کے وسیع موسمی اثرات کو ایسے طوفانی رجحانات کے ساتھ جوڑا ہے، مگر کسی ایک طوفان کی شدت یا راستے کو صرف ایک عامل کا قطعی نتیجہ قرار نہیں دیا گیا۔

فوجیان کے فودنگ شہر میں امدادی کارکنوں نے گھروں اور زیر آب گلیوں سے عمر رسیدہ افراد کو منتقل کیا۔ جنشی گاؤں میں شدید بارش کے دوران تین منزلہ اینٹوں کی عمارت گرنے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔ دستیاب رپورٹس میں بعض افراد کے لاپتا ہونے کا ذکر سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے حوالے سے کیا گیا، تاہم فوری طور پر مکمل مصدقہ جانی نقصان جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے کسی غیر مصدقہ ہلاکت یا لاپتا افراد کی قطعی تعداد کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔

ژی جیانگ کے وینژو شہر میں بدھ کو ایک نشیبی تعلیمی احاطے میں ڈھائی ہزار سے زائد اساتذہ اور طلبہ سیلابی پانی کے باعث پھنس گئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق ڈرونز کے ذریعے خوراک اور پانی پہنچایا گیا، جبکہ امدادی ٹیموں نے انخلا اور رسائی کے راستوں پر کام کیا۔ فوجیان کے فودنگ میں کام، صنعتی سرگرمیاں، کلاسیں اور عوامی نقل و حمل عارضی طور پر معطل کی گئیں، جبکہ ژانگژو اور چوانژو سمیت متعدد شہروں میں اسکول بند رکھے گئے۔ یہ اقدامات مقامی خطرے اور بارش کی شدت کے مطابق مختلف علاقوں میں الگ الگ نافذ ہوئے۔

چین کی وزارت قدرتی وسائل نے مسلسل بارش کے بعد پہاڑی تودے گرنے، مٹی کے بہاؤ اور دیگر ثانوی آفات کے خطرے سے خبردار کیا۔ حکام نے نشیبی آبادیوں، دریاؤں کے کناروں، ڈھلوانوں اور کمزور عمارتوں کے قریب نگرانی بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ فوری ترجیح پھنسے افراد تک رسائی، متاثرہ سڑکوں اور بجلی و مواصلات کی بحالی اور مزید بارش کے دوران نئے انخلا ہیں۔ نقصان، لاپتا افراد اور بحالی کے اخراجات کی مکمل تصویر بارش کم ہونے اور مقامی سروے مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔