کٹھمنڈو: اقوام متحدہ اور اس کے انسانی امدادی شراکت داروں نے نیپال میں تباہ کن اچانک سیلاب اور ملبے کے ریلوں سے متاثرہ لوگوں کے لیے 4 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی ہنگامی فلیش اپیل جاری کر دی ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور، اوچا، کے 4 ستمبر کے اعلامیے کے مطابق منصوبے کا ہدف 84 ہزار سے زائد افراد کو فوری اور زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنا ہے۔ یہ رقم ابھی مکمل طور پر موصول شدہ امداد نہیں بلکہ بین الاقوامی عطیہ دہندگان سے مالی تعاون کی درخواست ہے۔
آفت 26 اگست کو نیپال اور چین کی سرحد سے ملحق بلند پہاڑی علاقے میں گلیشیئر کے بڑے حصے اور چٹانی مواد کے انہدام کے بعد شروع ہوئی۔ برف، چٹان، پانی اور کیچڑ کا شدید ریلا دریائی وادی میں اترا اور راسووا، نواکوٹ اور ملحقہ علاقوں میں آبادیاں، سڑکیں، پل، اسکول، پانی کے نظام اور پن بجلی تنصیبات متاثر ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام، یو این ڈی پی، نے راسووا کے بلند سرحدی علاقے سے بھوٹے کوشی دریا میں آنے والے اچانک سیلاب کو وسیع جانی و مالی نقصان کا سبب قرار دیا ہے۔
یو این ڈی پی کے مطابق نیپالی حکومت نے ابتدائی طور پر چھ اضلاع کی 17 بلدیاتی حدود میں 84,270 افراد کو متاثرہ آبادی کے طور پر منظور شدہ تخمینے میں شامل کیا۔ ان اضلاع میں راسووا، نواکوٹ، دھادنگ، چتوان، گورکھا اور تناہو شامل ہیں۔ یہ عدد امدادی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے والا تخمینہ ہے اور زمینی جائزوں، نقل مکانی اور رسائی بہتر ہونے کے ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے۔
رائٹرز نے نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ 4 ستمبر تک نیپال میں کم از کم 1,294 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی اور 5,053 افراد لاپتا تھے۔ چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تبت میں اسی آفت سے 31 افراد ہلاک اور 531 لاپتا شمار کیے گئے۔ یہ عبوری اعداد ہیں؛ تلاش، شناخت اور متاثرہ علاقوں تک رسائی جاری رہنے کے باعث ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے۔
اوچا کی اپیل میں نقد معاونت، خوراک، عارضی و پائیدار پناہ، صاف پانی، صحت کی دیکھ بھال اور دوسری ضروری خدمات کو ترجیح دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا کہ بے گھر خاندانوں کے لیے سرد موسم سے پہلے محفوظ رہائش درکار ہے، جبکہ عارضی مراکز میں بخار اور اسہال کے واقعات کی نگرانی ہو رہی ہے۔ ملبے میں انسانی باقیات اور مردہ مویشی موجود ہونے کی اطلاعات کے باعث وبائی امراض کا خدشہ بھی امدادی منصوبہ بندی میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ خطرے کی تنبیہ ہے، کسی بڑے وبائی پھیلاؤ کی تصدیق نہیں۔
نیپالی حکام کے ابتدائی معاشی جائزے کے مطابق املاک، مکانات اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان کم از کم 387.5 ارب نیپالی روپے، تقریباً 2 ارب 56 کروڑ ڈالر، ہو سکتا ہے۔ ڈیزاسٹر اتھارٹی کے سربراہ نے پہلے چار ماہ میں سڑکوں، عارضی پناہ گاہوں، پینے کے پانی اور بجلی کی بحالی کے لیے تقریباً 5 کروڑ 26 لاکھ ڈالر کی ضرورت کا اندازہ دیا۔ حکام کے مطابق تقریباً 20 ہزار مکانات دوبارہ تعمیر کرنا پڑ سکتے ہیں، جن میں کم از کم 7,500 مکمل طور پر تباہ ہوئے۔ یہ تمام اعداد ابتدائی ہیں اور تفصیلی نقصان و ضروریات کا جائزہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔
یو این ڈی پی کی ابتدائی ماڈلنگ میں صرف عمارات کو ممکنہ نقصان 15 کروڑ 86 لاکھ ڈالر بتایا گیا ہے اور اس تخمینے کے ساتھ تقریباً 30 فیصد غیر یقینی کی حد بھی درج ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ یہ مجموعی آفتی نقصان، نقل مکانی یا خدمات کی مکمل تباہی کا حتمی حساب نہیں۔ اسی جائزے میں متاثرہ عمارات سے متعلق تقریباً 556,200 ٹن ملبے اور ذاتی املاک، نباتات، چٹان و تلچھٹ سمیت وسیع تر ملبے کا اشارتی حجم 22 لاکھ ٹن بتایا گیا۔
ڈان اور خبر رساں ادارے اے ایف پی کی زمینی رپورٹنگ کے مطابق نواکوٹ کے دیوی گھاٹ اور تریشولی علاقوں میں بعض خاندانوں کے گھر اور دھان کے کھیت بہہ گئے اور دریا نے سابقہ آبادی کی زمین پر نیا راستہ بنا لیا۔ متعدد بے گھر افراد رشتہ داروں، کرائے کے کمروں یا اسکولوں میں قائم عارضی مراکز میں مقیم ہیں۔ بعض اسکولوں کے لیے نئی جگہ تلاش کیے بغیر تعمیرِ نو ممکن نہیں رہی، جس سے امداد کے ساتھ تعلیم اور مستقل آبادکاری کا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔
4 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی فلیش اپیل فوری انسانی ضروریات کے لیے ہے اور اسے نیپال کی مکمل تعمیرِ نو کی لاگت نہیں سمجھا جا سکتا۔ بحالی کے طویل مرحلے میں مکانات، پن بجلی منصوبوں، سڑکوں، پلوں، زرعی زمین اور مقامی معیشت کے لیے کہیں زیادہ وسائل درکار ہو سکتے ہیں۔ گلیشیئر کے انہدام اور پہاڑی برادریوں کو بڑھتے موسمی خطرات کے تناظر میں اقوام متحدہ نے موافقت، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور پیشگی انتباہی نظام کی ضرورت اجاگر کی ہے، تاہم اس مخصوص آفت کی مکمل سائنسی وجہ اور موسمیاتی انتساب کے لیے تفصیلی تحقیق ضروری ہوگی۔




