ٹائیفون ساؤڈل سے منسلک شدید بارشوں نے چین کے جنوبی ساحلی صوبوں فوجیان اور گوانگ ڈونگ میں شہری اور دیہی علاقوں کو زیر آب کردیا ہے، جبکہ حکام نے مزید بارش، لینڈ سلائیڈنگ اور دریاؤں کی سطح بڑھنے کے خدشے پر ہنگامی اقدامات جاری رکھے ہیں۔ رائٹرز کی چار ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق صرف فوجیان میں 83 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
فوجیان کے شہر فوڈنگ میں امدادی اہلکار کمر تک پانی میں داخل ہوکر عمر رسیدہ رہائشیوں کو باہر نکالتے دکھائی دیے۔ رائٹرز نے سوشل میڈیا پر آنے والی متعلقہ ویڈیوز کے مقام اور مواد کی تصدیق کی۔ قریبی پہاڑی و چائے پیدا کرنے والے جنشی گاؤں میں تیز سیلابی ریلے نے رہائشی عمارتوں کو گھیر لیا اور ایک تین منزلہ اینٹوں کی عمارت گر گئی۔ دستیاب رپورٹ میں اس عمارت کے ملبے سے کسی مصدقہ ہلاکت کی تعداد جاری نہیں کی گئی۔
ساؤڈل نے جمعرات کو دوبارہ طاقت پکڑنے کے بعد فوجیان کے ساحل پر اپنا تیسرا لینڈ فال کیا۔ متعدد ساحلی علاقوں میں اسکول بند، عوامی ٹرانسپورٹ معطل اور ہنگامی سیلابی ضابطے نافذ کیے گئے۔ بارش کا سلسلہ اندرون ملک بڑھنے کے ساتھ مقامی انتظامیہ نے نشیبی بستیوں اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی۔
پوتیان شہر میں مولان دریا کے پانی نے مرکزی شاہراہوں، پلوں کے ڈھانچوں اور رہائشی عمارتوں کو متاثر کیا۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق امدادی ٹیمیں پھنسے ہوئے لوگوں کے انخلا میں مصروف ہیں اور بعض افراد لاپتا بتائے گئے، لیکن رپورٹ میں ان کی حتمی تعداد نہیں دی گئی۔ لاپتا ہونا ہلاکت کی تصدیق نہیں، اس لیے جانی نقصان کی صورت حال سرکاری تلاش اور شناخت مکمل ہونے تک غیر حتمی رہے گی۔
اگست کے اواخر سے ژیجیانگ اور قریبی صوبوں میں لاکھوں افراد کو مختلف طوفانی خطرات کے باعث منتقل کیا جاچکا ہے۔ ساؤڈل رواں سال چین سے ٹکرانے والا ساتواں ٹائیفون بتایا گیا ہے، جبکہ مشرقی ژیجیانگ کے شہر یوہوان کو دو ماہ سے بھی کم مدت میں تیسری بار ٹائیفون کا سامنا ہوا۔ چین کی موسمیاتی انتظامیہ نے اس ترتیب کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
وزارت قدرتی وسائل نے خبردار کیا کہ مسلسل بارش سے دریاؤں کی سطح پہلے ہی بعض مقامات پر انتباہی حد عبور کرچکی ہے اور زمین پانی سے بھر جانے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ جیسے ثانوی خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بارش رکنے کے بعد بھی ڈھلوانوں، پلوں اور زیر آب سڑکوں کا خطرہ فوراً ختم نہیں ہوتا، اسی لیے مقامی بندشیں اور انخلا کے احکامات برقرار رکھے جاسکتے ہیں۔
چینی موسمیاتی ماہرین اور ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک ماہر نے اس غیر معمولی طوفانی راستے اور طاقت کو مضبوط ال نینو حالات سے جوڑا ہے۔ ان کے مطابق مغربی بحرالکاہل کا بلند دباؤ شمال کی طرف ہونے سے طوفان چین کے مشرقی ساحل کی طرف زیادہ براہ راست بڑھ سکتے ہیں۔ یہ ماہرین کی موسمیاتی تشریح ہے؛ کسی ایک طوفان کے تمام نقصانات کو صرف ایک عامل سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔
اقوام متحدہ نے بھی ال نینو کے 2027 تک مزید مضبوط ہونے اور طویل شدید موسم کے خطرے سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔ ساؤڈل کے حقیقی انسانی اور مالی اثرات کا حتمی اندازہ پانی اترنے، لاپتا افراد کی تلاش، عمارتوں و پلوں کے معائنے اور زرعی نقصان کے سرکاری جائزے کے بعد سامنے آئے گا۔ فی الحال تصدیق شدہ صورت حال یہ ہے کہ وسیع سیلاب، بڑے پیمانے پر انخلا، نقل و حمل کی بندش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔




