واشنگٹن: امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف منگل کو ایک غیر اعلانیہ دورے پر ماسکو پہنچے، لیکن امریکا اور روس کی حکومتوں نے اس دورے، اس کے مقصد یا کسی ممکنہ ملاقات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ ایکسپریس نیوز کی 26 اگست کی رپورٹ میں یہ دعویٰ امریکی میڈیا اور دستیاب پرواز سے متعلق معلومات کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے، اس لیے اسے سرکاری طور پر ثابت شدہ دورہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق پروازوں کی نگرانی کرنے والے ریکارڈ میں امریکی فضائیہ کا ایک سی 17 طیارہ لٹویا کے راستے ماسکو پہنچتا دکھائی دیا اور چند گھنٹوں بعد ریگا واپس چلا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کے بارے میں بھی کہا گیا کہ اس میں ونوکووو ہوائی اڈے کے قریب طیارہ اور سفارتی گاڑیوں کا قافلہ نظر آیا، مگر اس مواد کی آزادانہ تصدیق یا اس میں موجود افراد کی شناخت رپورٹ میں فراہم نہیں کی گئی۔
امریکی میڈیا کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن نے یوکرین کو ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کے ممکنہ دورۂ روس سے آگاہ کیا تھا اور وفد کی موجودگی کے دوران حملوں میں وقفے کی درخواست کی تھی۔ اس دعوے پر بھی متعلقہ حکومتوں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی لیے دورے کی نوعیت، وفد کے ارکان اور زیر بحث موضوعات فی الحال غیر واضح ہیں۔
روس میں برطانیہ کے سابق دفاعی اتاشی جان فورمین نے ممکنہ مقصد کے بارے میں قیاس ظاہر کیا کہ رابطے کا تعلق کشیدگی میں کمی یا روس میں زیر حراست امریکی شہریوں سے ہو سکتا ہے۔ یہ ان کا تجزیہ ہے، کسی تصدیق شدہ ایجنڈے یا نتیجے کا بیان نہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ریٹکلف نے کس روسی عہدیدار سے ملاقات کی یا کوئی معاہدہ طے پایا۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ نے پس منظر میں کہا کہ جان ریٹکلف اس سے قبل امریکی قیدیوں کی رہائی سے متعلق کوششوں میں کردار ادا کر چکے ہیں، جبکہ سی آئی اے 2024 کے قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں بھی شامل رہی۔ یہ سابقہ سرگرمیاں موجودہ مبینہ دورے کے مقصد کو خود بخود ثابت نہیں کرتیں، البتہ اسی وجہ سے قیدیوں کے معاملے سے متعلق امکان زیر بحث آیا ہے۔
امریکا اور روس کے تعلقات یوکرین جنگ، پابندیوں، سفارتی تناؤ اور سکیورٹی معاملات کے باعث طویل عرصے سے دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی اعلیٰ امریکی انٹیلی جنس عہدیدار کا ممکنہ ماسکو دورہ اہم پیش رفت ہو سکتا ہے، لیکن اس کی اہمیت کا درست تعین اسی وقت ممکن ہوگا جب فریقین دورے، ملاقاتوں یا نتائج کے بارے میں قابل تصدیق معلومات جاری کریں۔
اردو ہیڈ لائنز نے اس خبر میں میڈیا رپورٹ، پرواز سے متعلق اشاروں، سوشل میڈیا مواد اور ایک سابق عہدیدار کے قیاس کو الگ الگ نسبت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ نہ طیارے کی موجودگی کو ریٹکلف کی موجودگی کا قطعی ثبوت قرار دیا گیا ہے، نہ مبینہ دورے کو سرکاری طور پر تصدیق شدہ واقعہ، اور نہ ہی کسی ملاقات یا نتیجے کا غیر مصدقہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ مزید باضابطہ تفصیل سامنے آنے کی صورت میں اسی ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




