کراچی/مٹھی: سندھ کے محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ یکم جنوری 2026 سے اب تک سول ہسپتال مٹھی میں مختلف بیماریوں کے باعث 315 نومولود بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ محکمہ نے یہ سرکاری اعداد و شمار ان میڈیا رپورٹس کے جواب میں جاری کیے جن میں آٹھ ماہ کے دوران نومولود بچوں کی اموات کا تخمینہ 480 بتایا گیا تھا۔ محکمہ صحت نے 480 کے عدد کو حقائق کے منافی قرار دیا۔
صوبائی محکمہ صحت کے مطابق ہسپتال کے تصدیق شدہ ریکارڈ میں رواں سال اب تک 315 نومولود اموات درج ہیں۔ اسی مدت میں نیونیٹل انتہائی نگہداشت یونٹ میں 3,535 نومولود بچوں کو تشویشناک حالت میں طبی نگہداشت فراہم کی گئی، جن میں سے 2,819 بچے صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے۔
سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ 328 پیچیدہ کیسز کو زیادہ سہولیات رکھنے والے طبی مراکز منتقل کیا گیا، جبکہ 73 کیسز میں مریض یا اہل خانہ طبی مشورے کے برخلاف ہسپتال چھوڑ گئے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق مجموعی 315 اموات میں سے 65 ایسے بچوں کی تھیں جو تھرپارکر سے باہر کے اضلاع سے ریفر ہو کر مٹھی پہنچے تھے۔
محکمہ صحت نے کہا کہ بیرونی اضلاع سے آنے والے مریضوں میں میرپورخاص، بدین اور عمرکوٹ کے شدید بیمار اور زیادہ خطرے والے بچے شامل تھے، جو پیچیدہ طبی حالت میں ہسپتال پہنچے۔ انتظامیہ کے مطابق 315 میں سے 250 اموات تھرپارکر کے مقامی رہائشی بچوں کی تھیں جبکہ 65 بیرونی اضلاع سے ریفر کیے گئے کیسز میں ہوئیں۔
یہ اعداد و شمار محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کے سرکاری ریکارڈ پر مبنی ہیں اور مختلف بیماریوں سے ہونے والی مجموعی نومولود اموات کو بیان کرتے ہیں۔ دستیاب بیان میں ہر موت کی الگ طبی وجہ، عمر کے مزید تفصیلی گروپس یا شرح اموات کا تقابلی تجزیہ فراہم نہیں کیا گیا۔ اس لیے 315 کے مجموعی عدد سے کسی ایک بیماری، غذائی قلت یا طبی غفلت کو تمام اموات کی وجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاہم اتنی بڑی تعداد میں شدید بیمار نومولود بچوں کا NICU میں داخل ہونا تھرپارکر اور ملحقہ اضلاع میں نوزائیدہ صحت کی خدمات اور بروقت ریفرل کی مسلسل اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔




