وفاقی حکومت نے فارن سٹیزن شپ رولز 2026 پر عمل درآمد شروع کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو غیر ملکی شہریت سے متعلق تفصیلات جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ایک آفس میمورنڈم کے ذریعے افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی کسی بھی غیر ملکی شہریت کے بارے میں مکمل معلومات مقررہ مدت میں فراہم کریں۔

ہدایت نامے میں صرف دوہری شہریت کی اطلاع تک معاملہ محدود نہیں رکھا گیا۔ سرکاری ملازمین سے غیر ملکی سفری دستاویزات کی تفصیل اور کسی غیر ملکی شہری سے شادی کی صورت میں متعلقہ معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد حکومت کے مطابق 2026 کے نئے قواعد کے تحت ریکارڈ کو مکمل اور یکساں بنانا ہے تاکہ متعلقہ محکموں کے پاس افسران کی شہریت اور بیرون ملک قانونی حیثیت سے متعلق تازہ معلومات موجود ہوں۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں معلومات نہ دینے یا غلط معلومات جمع کرانے کی صورت میں محکمانہ کارروائی ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدم تعمیل پر سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ جھوٹا یا نامکمل اعلامیہ بھی بدعنوانی یا مس کنڈکٹ کے زمرے میں زیر غور آ سکتا ہے۔ اس لیے افسران کو مکمل اور درست معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

نئے قواعد کا اطلاق ان افسران پر بھی ہوتا ہے جو خود دوہری شہریت رکھتے ہوں یا جن کے زیر کفالت افراد کے پاس غیر ملکی شہریت ہو۔ دستیاب رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس عمل کے نتیجے میں دوہری شہریت رکھنے والے ملازمین کی ملازمت یا تعیناتی کے قواعد میں فوری طور پر کوئی نئی پابندی عائد کی گئی ہے؛ موجودہ ہدایت بنیادی طور پر معلومات کے اعلان اور ریکارڈ کی تکمیل سے متعلق ہے۔

سرکاری ملازمین کی شہریت، بیرون ملک اثاثوں اور مفادات سے متعلق معلومات ماضی میں بھی شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے تناظر میں زیر بحث رہی ہیں۔ موجودہ اقدام میں اہم عملی مرحلہ یہ ہوگا کہ مختلف وزارتیں اور ڈویژنز ایک ہفتے کی مدت میں موصول ہونے والے اعلامیوں کو کس طرح مرتب اور جانچتے ہیں، اور عدم تعمیل کی صورت میں قواعد کو کتنی یکساں انداز میں نافذ کیا جاتا ہے۔