اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنر اپنے زیر علاج مریض کو دوا تجویز اور فراہم تو کر سکتا ہے، لیکن وہ ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت مطلوبہ لائسنس کے بغیر میڈیکل اسٹور یا ریٹیل ڈرگ آؤٹ لیٹ قائم یا چلا نہیں سکتا۔ عدالت نے اس سلسلے میں پشاور ہائیکورٹ کے 5 جون 2023 کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں بعض رجسٹرڈ ڈاکٹروں کے خلاف ریگولیٹری کارروائی روک دی گئی تھی۔

ڈان کے مطابق چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے خیبر پختونخوا کے سیکریٹری صحت کی اپیل پر فیصلہ سنایا۔ تنازع اس وقت پیدا ہوا تھا جب متعلقہ حکام نے بعض ڈاکٹروں کے کلینکس سے منسلک ڈسپنسریوں یا میڈیکل اسٹورز کا معائنہ کیا اور الزام عائد کیا کہ وہاں مطلوبہ ڈرگ سیل لائسنس کے بغیر ادویات ذخیرہ اور فروخت کی جا رہی تھیں۔ جنوری 2020 میں معائنے کے بعد ادویات تحویل میں لینے اور شوکاز نوٹس جاری کرنے کی کارروائی ہوئی تھی، جسے ڈاکٹروں نے پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

ایف سی سی نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ فارمیسی ایکٹ 1967 اور ڈرگز ایکٹ 1976 مختلف قانونی مقاصد پورے کرتے ہیں۔ فارمیسی ایکٹ کا سیکشن 31(4)(a) رجسٹرڈ ڈاکٹر کو اپنے مریض کو دوا فراہم کرنے یا اپنی تجویز کردہ دوا دینے کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس استثنا کو میڈیکل اسٹور چلانے کے عمومی حق کے طور پر نہیں پڑھا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق ڈرگز ایکٹ کے سیکشن 23(1)(c) میں دوا کی فروخت کو لائسنس سے مشروط کیا گیا ہے اور یہ شرط کسی خاص پیشے کے لیے خودکار استثنا فراہم نہیں کرتی۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ڈرگ انسپکٹرز کو متعلقہ قانون کے تحت معائنہ، نمونے لینے، تلاشی اور ادویات تحویل میں لینے کے اختیارات حاصل ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی قانونی حدود اور اختیار کے مطابق کارروائی کریں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ تکنیکی اور حقائق سے متعلق تنازعات کے لیے ڈرگز ایکٹ میں مخصوص قانونی فورمز موجود ہیں، اس لیے ہائیکورٹ کو شوکاز مرحلے پر قبل از وقت مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھی۔

ایف سی سی نے آئین کے آرٹیکل 18 سے متعلق دلیل بھی مسترد کی اور کہا کہ پیشہ یا کاروبار اختیار کرنے کا حق قانون کے تحت مقرر کردہ ضابطوں اور اہلیت کی شرائط سے مشروط ہو سکتا ہے، خصوصاً ادویات اور عوامی صحت جیسے حساس شعبوں میں۔ عدالت نے فریقین کو ہدایت کی کہ شوکاز کارروائی اور متعلقہ قانونی عمل کو مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت آگے بڑھایا جائے۔