خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے عیدک علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں سات دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سرکاری میڈیا نے یہ اطلاع سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ فورسز نے مشتبہ دہشت گردوں کا تعاقب کیا اور کارروائی کے دوران ان کے ٹھکانے تباہ کیے۔

رپورٹس میں ہلاک ہونے والوں کو ریاستی اصطلاح ”فتنہ الخوارج“ سے منسوب کیا گیا ہے۔ پاکستانی ریاست یہ اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ دستیاب رپورٹنگ میں ہلاک افراد کی الگ الگ شناخت، آپریشن کا دورانیہ یا فورسز کے جانی نقصان کی تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے ان نکات کو تصدیق شدہ نتیجے کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔

صدر آصف علی زرداری نے ایک بیان میں آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو سراہا۔ ڈان کے مطابق صدر نے عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے لیے جاری کوششوں کو قابلِ تعریف قرار دیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف منظم آپریشن سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور قومی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

یہ کارروائی ایسے وقت ہوئی ہے جب خیبر پختونخوا میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد دہشت گرد حملے اور انسدادِ دہشت گردی آپریشن رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈان نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے حوالے سے لکھا کہ صوبے میں، ضم شدہ اضلاع کے علاوہ، اگست میں 54 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے جو جولائی کے 36 واقعات سے زیادہ تھے۔ اسی تناظر میں سیکیورٹی ادارے شمالی وزیرستان اور دیگر متاثرہ علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عیدک آپریشن سے متعلق بنیادی دعویٰ سرکاری میڈیا اور سیکیورٹی ذرائع سے منسوب ہے۔ آزادانہ طور پر ہر عملی تفصیل کی تصدیق دستیاب نہیں، تاہم متعدد قائم شدہ پاکستانی خبر رساں اداروں نے ایک ہی بنیادی واقعے اور سات ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔