اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ضلعی عدلیہ ملک کے نظام انصاف کی ریڑھ کی ہڈی ہے کیونکہ زیادہ تر شہریوں کا عدالت اور انصاف کے رسمی نظام سے پہلا براہ راست رابطہ اسی سطح پر ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انصاف پر عوامی اعتماد بڑی حد تک اس تجربے سے بنتا ہے جو لوگوں کو ضلعی عدالتوں میں ملتا ہے۔

دی نیوز کے مطابق چیف جسٹس نے سپریم کورٹ میں منعقدہ نیشنل جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس ’’فرام ریفارم ٹو ریکگنیشن‘‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک موثر اور جواب دہ نظام انصاف کے لیے صرف مقدمات کی تیز سماعت کافی نہیں، بلکہ جوڈیشل افسران کو پیشہ ورانہ وسائل، بہتر کام کے ماحول اور ادارہ جاتی قدر و حمایت کی بھی ضرورت ہے۔ کانفرنس کا انعقاد نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے کیا اور اس میں ضلعی عدلیہ کی فلاح، ادارہ جاتی تعاون اور کارکردگی کے اعتراف کو مرکزی موضوع بنایا گیا۔

چیف جسٹس نے بتایا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے دور دراز اور کم سہولت یافتہ اضلاع کے دورے کیے جہاں ججوں، وکلا، سائلین اور عدالتی عملے کی عملی ضروریات اور موجودہ ادارہ جاتی انتظامات کے درمیان فرق سامنے آیا۔ ان مشاہدات کی بنیاد پر عدالتی انفراسٹرکچر، عوامی سہولت، پیشہ ورانہ وسائل اور ضلعی سطح پر کام کے حالات بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحاتی پروگرام میں عدالتوں کے کمپلیکسز کو سولر توانائی پر منتقل کرنا، ای لائبریریز کا قیام اور توسیع، انٹرنیٹ کی فراہمی، صاف پینے کے پانی کی سہولت اور خواتین کے لیے فسیلیٹیشن سینٹرز شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبے پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ بلوچستان کے 18 اضلاع میں بھی کام مکمل ہوا ہے۔ باقی اضلاع میں دشوار گزار جغرافیہ اور امن و امان کی مشکلات کے باعث عملدرآمد میں رکاوٹیں آئیں، تاہم کام جاری ہے۔

چیف جسٹس نے 2026-27 کو جینڈر ریسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو کے لیے مختص کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق خواتین سائلین کے لیے قائم کیے جانے والے سہولت مراکز کا مقصد بنیادی خدمات ایک ہی جگہ فراہم کرنا اور رازداری، تحفظ، رسائی اور باوقار ماحول کو بہتر بنانا ہے۔

کانفرنس میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز اور گلگت بلتستان چیف کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اظہار خیال کیا۔ پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 سے جولائی 2026 تک 14 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ وقت مقررہ میں نمٹائے جانے والے مقدمات کے فیصلے ہوئے، جبکہ ماڈل کریمنل اور سول عدالتوں نے ایک لاکھ 33 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے۔ یہ اعداد ضلعی سطح پر مقدمات کے بوجھ اور اصلاحاتی اقدامات دونوں کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہیں۔