اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سینئر پولیس قیادت میں اہم ردوبدل کرتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری کو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس کا انسپکٹر جنرل مقرر کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ موجودہ آئی جی سید علی ناصر رضوی کا تبادلہ کر کے انہیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے، جبکہ پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 21 افسر خرم علی کو نیشنل پولیس بیورو کا ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا ہے۔
جیو نیوز اور دی نیوز کے مطابق یہ تقرریاں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری الگ الگ نوٹیفکیشنز کے تحت کی گئی ہیں۔ سہیل چوہدری گریڈ 20 کے پولیس سروس آف پاکستان افسر ہیں اور نئی ذمہ داری سے پہلے پنجاب حکومت کے ماتحت خدمات انجام دے رہے تھے۔ علی ناصر رضوی اپریل 2024 سے اسلام آباد پولیس کے سربراہ تھے اور اب انہیں ملک میں سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم خصوصی وفاقی ادارے این سی سی آئی اے کی قیادت دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق این سی سی آئی اے آن لائن فراڈ، ہراسانی، ڈیٹا سے متعلق جرائم اور ڈیجیٹل فرانزک تحقیقات سمیت مختلف نوعیت کے سائبر کرائم مقدمات دیکھتی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی پولیس سے سائبر کرائم ایجنسی میں رضوی کی منتقلی ایسے وقت ہوئی ہے جب ڈیجیٹل جرائم اور آن لائن تحقیقات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام میں بڑھتی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
سہیل چوہدری اس سے قبل پنجاب میں مختلف فیلڈ اور کمانڈ عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ ان کی سابق ذمہ داریوں میں چیف ٹریفک آفیسر لاہور، سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ریجنل پولیس آفیسر ملتان شامل ہیں۔ ان عہدوں کے باعث انہیں شہری پولیسنگ، ٹریفک مینجمنٹ، آپریشنز اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تجربہ حاصل رہا ہے۔
دوسری جانب خرم علی کو نیشنل پولیس بیورو کی سربراہی دی گئی ہے۔ نیشنل پولیس بیورو وفاقی سطح پر پولیس پالیسی، بین الادارہ جاتی رابطہ اور پیشہ ورانہ ترقی سے متعلق امور پر کام کرتا ہے۔ اس ردوبدل کے بعد اسلام آباد پولیس، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اور نیشنل پولیس بیورو، تینوں اہم اداروں کو نئی قیادت مل گئی ہے۔ دستیاب رپورٹس میں ان تقرریوں کو انتظامی فیصلے کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور ان کے نفاذ کے لیے متعلقہ نوٹیفکیشن جاری کیے جا چکے ہیں۔




