وفاقی حکومت نے سنٹرل سپیریئر سروسز، یعنی سی ایس ایس، کے مسابقتی امتحان کے لیے عمومی بالائی عمر 30 سال اور زیادہ سے زیادہ تین کوششوں کی موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وفاقی پبلک سروس کمیشن نے اس معاملے پر اپنی تحریری آرا متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کو جمع کراتے ہوئے عمر کی حد 35 سال اور کوششوں کی تعداد پانچ کرنے کی سفارش کی مخالفت کی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کی ایک ذیلی کمیٹی نے سول سروس میں داخلے کے مواقع وسیع کرنے کے لیے عمومی بالائی عمر 30 سے بڑھا کر 35 سال اور امتحانی کوششیں تین سے بڑھا کر پانچ کرنے کی تجویز دی تھی۔ ایکسپریس ٹریبیون اور دیگر قومی رپورٹس کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے ان تجاویز کو عملی اور انتظامی اعتبار سے ناموزوں قرار دیا، جبکہ ایف پی ایس سی نے اپنے 174ویں اجلاس میں موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
موجودہ قواعد کے تحت عمومی امیدوار کی عمر متعلقہ کٹ آف تاریخ پر کم از کم 21 اور زیادہ سے زیادہ 30 سال ہونی چاہیے اور وہ سی ایس ایس تحریری امتحان میں زیادہ سے زیادہ تین مرتبہ شریک ہوسکتا ہے۔ قواعد میں بعض مخصوص زمروں، علاقوں اور مقررہ سرکاری ملازمت رکھنے والے امیدواروں کے لیے دو سال تک عمر میں رعایت پہلے سے موجود ہے۔ یہ رعایت خودکار نہیں ہوتی اور امیدوار کو متعلقہ دستاویزات اور اہلیت کی شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں۔ تازہ فیصلہ ان موجودہ مخصوص رعایتوں کے خاتمے کا اعلان نہیں ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا کہ عمومی عمر اور کوششیں بڑھنے سے امیدواروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے امتحانی مراکز، نگرانی، پرچوں کی جانچ اور نتائج کی تیاری پر اضافی انتظامی دباؤ پڑے گا۔ ڈویژن نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ زیادہ کوششوں کی اجازت سے بعض امیدوار اپنے پیشہ ورانہ زندگی کے کئی قیمتی سال مسلسل امتحان دینے میں گزار سکتے ہیں۔ یہ حکومتی پالیسی کی دلیل ہے؛ اس کے حق یا مخالفت میں امیدواروں اور ماہرین کے مختلف نقطہ ہائے نظر ہوسکتے ہیں۔
ایک اور دلیل یہ دی گئی کہ زیادہ عمر میں سول سروس جوائن کرنے والے کامیاب امیدواروں کی مجموعی سرکاری مدت نسبتاً مختصر ہوگی، جس سے اعلیٰ سطح پر تجربہ رکھنے والے افسران کی دستیابی پر طویل مدتی اثر پڑسکتا ہے۔ دوسری جانب عمر میں اضافہ چاہنے والے امیدوار عموماً تعلیم مکمل کرنے میں تاخیر، محدود مواقع، معاشی حالات اور مختلف تعلیمی راستوں کو زیادہ لچک دینے کی ضرورت کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔ موجودہ تحریری مؤقف نے ان مطالبات کے باوجود عمومی حد تبدیل نہیں کی۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق عمر اور کوششوں میں تبدیلی وفاقی حکومت کے پالیسی دائرے میں آتی ہے، جبکہ ایف پی ایس سی منظور شدہ قواعد کے تحت امتحان منعقد کرتا ہے۔ اس لیے کسی پارلیمانی ذیلی کمیٹی کی سفارش بذاتِ خود قواعد میں فوری ترمیم نہیں بنتی۔ تبدیلی کے لیے مجاز حکومتی منظوری، قواعد یا نوٹیفکیشن میں باقاعدہ ترمیم اور ایف پی ایس سی کی جانب سے اس کا امتحانی اشتہار میں نفاذ ضروری ہوتا۔
امیدواروں کو سوشل میڈیا پر زیر گردش غیر مصدقہ دعووں کے بجائے متعلقہ امتحان کا ایف پی ایس سی اشتہار، مسابقتی امتحان کے قواعد اور سرکاری نوٹس دیکھنے چاہئیں۔ عمر کا حساب مخصوص کٹ آف تاریخ پر ہوتا ہے اور ایک پرچے میں بھی شرکت بعض حالات میں کوشش شمار ہونے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے ہر امیدوار کو اپنی عمر، پہلے استعمال شدہ مواقع اور رعایتی زمرے کی دستاویزات الگ سے جانچنی چاہئیں۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ 35 سال عمومی عمر اور پانچ کوششوں کی سفارش منظور نہیں ہوئی، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور ایف پی ایس سی نے موجودہ نظام برقرار رکھنے کی تحریری پوزیشن دی ہے، اور عمومی امیدواروں کے لیے بالائی عمر 30 سال اور زیادہ سے زیادہ تین کوششیں بدستور نافذ ہیں۔ آئندہ کسی تبدیلی کے لیے نیا باقاعدہ سرکاری فیصلہ درکار ہوگا۔




