اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک کے تحت بینکوں کی جانب سے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ جمع کرانے کی حد 50 فیصد بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دی ہے۔ اس سے پہلے یہ حد 20 لاکھ روپے تھی۔ فیصلہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے متعلق قومی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

نئے انتظام کے تحت نقد لین دین جب مقررہ حد، یعنی 30 لاکھ روپے، کے برابر یا اس سے زیادہ ہو گا تو کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹ کی شرط لاگو ہو گی۔ یہ نظام مشتبہ ٹرانزیکشن رپورٹ سے مختلف ہے؛ مشتبہ سرگرمی یا منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے اشاروں کی صورت میں متعلقہ ادارے الگ سے مشتبہ ٹرانزیکشن رپورٹ بھیجتے ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں قومی ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان کے AML-CFT نظام کے لیے پالیسی اور بین الادارہ جاتی رابطے کا مرکزی فورم ہے۔ اجلاس میں سابق فیصلوں پر عمل درآمد، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی، ادارہ جاتی صلاحیت اور مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کے استعمال سے متعلق اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی نے پاکستان میری ٹائم زونز ایکٹ 2023 کی دفعہ 28 کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کرنے کی منظوری بھی دی، جس کے نتیجے میں بحری قزاقی کو متعلقہ بنیادی جرائم میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کو قانون کے شیڈول فور میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی، تاکہ ورچوئل اور ڈیجیٹل اثاثوں پر AML-CFT تقاضوں کے حوالے سے ریگولیٹری اختیار واضح ہو سکے۔

فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو قانون کے تحت رپورٹنگ اداروں سے مشتبہ اور کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس وصول کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس تجزیے کو قانونی تقاضوں کے مطابق تحقیقاتی یا استغاثہ کے اداروں اور باہمی انتظامات کے تحت غیر ملکی مالیاتی انٹیلی جنس یونٹس کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔

وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کے درمیان بروقت رابطے اور فیصلوں پر مسلسل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی تجزیاتی اور عملی صلاحیت بڑھانے کے لیے واضح ٹائم لائن کے ساتھ نفاذی روڈمیپ بنانے کی ہدایت بھی سامنے آئی، تاکہ مالیاتی خطرات اور نئی ٹیکنالوجیز کے بدلتے منظرنامے کے مطابق نظام کو اپ ڈیٹ رکھا جا سکے۔