ریاض: وزیراعظم محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے اقتصادی تعلقات کو مزید منظم اور وسیع بنانے کے لیے جامع اقتصادی تعاون فریم ورک شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ اتفاق ریاض میں دونوں رہنماؤں کی اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران ہوا۔

نئے فریم ورک کا بنیادی مقصد دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کو ان شعبوں میں بڑھانا ہے جہاں دونوں ممالک مشترکہ مفاد اور عملی امکانات دیکھتے ہیں۔ اعلان کے مطابق سرکاری اداروں کے ساتھ نجی شعبے کو بھی مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری اور تجارتی تبادلوں میں زیادہ فعال کردار دینے کی کوشش کی جائے گی۔

فریم ورک کے تحت توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ سمیت متعدد شعبوں میں بڑے اور ممکنہ طور پر زیادہ اثر رکھنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دونوں جانب سے بعض اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر بھی غور جاری ہے، جن میں بجلی کے باہمی رابطے کے منصوبے اور توانائی کے شعبے میں تعاون شامل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد نے اس بات پر زور دیا کہ اقتصادی شراکت داری کو ایسے پائیدار ڈھانچے میں آگے بڑھایا جائے جو دونوں ملکوں کے عوام اور کاروباری شعبوں کے لیے عملی مواقع پیدا کرے۔ اس تناظر میں سرمایہ کاری کے منصوبوں کو صرف اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے نفاذ، ادارہ جاتی نگرانی اور پیش رفت کے طریقہ کار کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے سعودی پاکستانی سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے آئندہ اجلاس کا بھی ذکر کیا۔ توقع ہے کہ یہ فورم مشترکہ منصوبوں کو ادارہ جاتی سطح پر آگے بڑھانے، مختلف وزارتوں اور اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے اور طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی میں کردار ادا کرے گا۔

پاکستان حالیہ برسوں میں سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے توانائی، معدنیات، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر توجہ دیتا رہا ہے۔ تاہم نئے فریم ورک کے تحت کن منصوبوں میں حتمی سرمایہ کاری ہو گی، ان کی مالی مالیت کیا ہو گی اور عملی ٹائم لائن کیا ہو گی، اس بارے میں اس اعلان میں حتمی تفصیلات نہیں دی گئیں۔