اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 19 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 28 اکتوبر سے نافذ ہوں گی۔

تازہ ردوبدل کے بعد پیٹرول کی نئی خوردہ قیمت 376 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 398 روپے 7 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔

قیمتوں میں یہ تبدیلی ایسے وقت ہوئی ہے جب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی اور عوامی ریلیف کے معاملے پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی ملاقات کے بعد دونوں جانب سے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے جو موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے جاری ایندھن ریلیف اسکیم کو وسیع کرنے کے امکانات کا جائزہ لے گی۔

عالمی توانائی منڈی میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث رواں سال پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل اپریل میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچا تھا، جبکہ پیٹرول بھی اسی عرصے میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک گیا۔ بعد میں عالمی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال کے مطابق مقامی نرخوں میں کمی بیشی ہوتی رہی۔

حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں تیزی کے دوران ایندھن بچت کے اقدامات بھی دوبارہ متعارف کرائے، جن میں بازاروں کے اوقات محدود کرنا اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کوٹے میں عارضی کمی شامل ہے۔ جولائی میں پٹرولیم حکام نے اعلان کیا تھا کہ عالمی منڈی کے تیز اتار چڑھاؤ کے باعث مقامی ایندھن قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

پیٹرول کی قیمت میں کمی نجی ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والوں کے لیے معمولی ریلیف فراہم کرے گی، تاہم ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری، بھاری ٹرانسپورٹ اور ڈیزل استعمال کرنے والے دیگر شعبوں کی لاگت پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔