اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سینیٹ میں بتایا ہے کہ حکومت بجلی کے موجودہ سلیب نظام میں تبدیلی کا فیصلہ کر چکی ہے، جس کے تحت ماہانہ 200 یونٹ کی حد ایک یونٹ سے بھی عبور کرنے والا صارف زیادہ ٹیرف ادا کرتا ہے اور چھ ماہ تک محفوظ صارف کی رعایت سے محروم رہتا ہے۔ وزیر کے مطابق اس نظام کو ختم کرنے کے لیے کام تیز کر دیا گیا ہے۔

موجودہ طریقہ کار میں 200 یونٹ تک استعمال کرنے والے صارفین محفوظ زمرے میں آتے ہیں اور انہیں فی یونٹ تقریباً 13 روپے کی سبسڈی ملتی ہے۔ حد سے تجاوز پر فی یونٹ لاگت نمایاں بڑھ سکتی ہے اور صارف اگلے چھ ماہ تک محفوظ زمرے کا فائدہ حاصل نہیں کر پاتا۔ سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اس مسئلے کو اٹھایا اور 200 سے 201 یونٹ ہونے پر بل میں غیر معمولی اضافے کی نشاندہی کی۔

اویس لغاری نے کہا کہ وزارت دو آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ایک تجویز محفوظ صارفین کی حد 200 سے بڑھا کر 250 یونٹ کرنے کی ہے، جبکہ دوسری تجویز چھ ماہ کی پابندی ختم کرنے کی ہے تاکہ کسی مہینے میں استعمال دوبارہ 200 یونٹ تک آنے پر صارف رعایت حاصل کر سکے۔ ان کے مطابق منصوبے کو حتمی شکل دینے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ لگ سکتا ہے۔

وزیر توانائی نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں سبسڈی کو صرف بجلی کے استعمال کی مقدار کے بجائے صارف کی آمدن سے جوڑنے پر کام ہو رہا ہے، تاکہ امداد غربت کی لکیر سے نیچے اور کم متوسط آمدن والے گھرانوں تک پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال کے باعث محفوظ صارفین کی تعداد گزشتہ دو برس میں ایک کروڑ سے بڑھ کر دو سے ڈھائی کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جس سے موجودہ استعمال پر مبنی معیار کی افادیت پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔

پاور سیکٹر کے مالی معاملات پر اویس لغاری نے بتایا کہ گردشی قرضہ تقریباً 1.67 ٹریلین روپے تک آ گیا ہے اور حکومت چار سال میں اسے ختم کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق قرض کی ری پروفائلنگ کے دوران 3.23 روپے فی یونٹ قرض سروسنگ سرچارج بھی ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔

یہ اعلان فوری ٹیرف نوٹیفکیشن نہیں بلکہ مجوزہ اصلاحات کی سمت کی وضاحت ہے۔ حتمی اثر اس وقت واضح ہو گا جب حکومت نئی حد، اہلیت کے معیار، سبسڈی کے طریقہ کار اور نفاذ کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کرے گی۔