اسلام آباد: پاکستان کی نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی برائے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام نے مالی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد ریگولیٹری تبدیلیوں کی منظوری دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کمیٹی کے 19ویں اجلاس میں گزشتہ فیصلوں پر پیش رفت، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی کارکردگی اور نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں Suspicious Transaction Reports اور Currency Transaction Reports کے تجزیاتی فریم ورک کے تحت کرنسی ٹرانزیکشن رپورٹس کی حد میں مجوزہ ترامیم منظور کی گئیں۔ رپورٹ میں نئی عددی حد کی تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے منظوری کو حد کے نظرثانی شدہ اصول کی منظوری تک محدود سمجھا جا رہا ہے۔
کمیٹی نے پاکستان میری ٹائم زونز ایکٹ 2023 کی دفعہ 28 کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول ون میں شامل کرنے کی منظوری بھی دی۔ اسی طرح پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی PVARA، کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے شیڈول فور میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی۔ یہ اقدامات روایتی مالی لین دین کے ساتھ ابھرتے ہوئے ورچوئل اثاثہ جاتی شعبے کو بھی نگرانی کے وسیع فریم ورک سے جوڑنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
اجلاس میں فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی ادارہ جاتی صلاحیت، تجزیاتی کام اور مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کے ممکنہ استعمال پر بھی غور ہوا۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ ایف ایم یو کی تجزیاتی اور عملی صلاحیت بڑھانے کے لیے واضح مدتوں کے ساتھ عملدرآمد کا روڈ میپ بنایا جائے اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر کیا جائے۔
حکام نے اس ضرورت پر زور دیا کہ پاکستان کا AML-CFT نظام بدلتے مالی خطرات اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق اپ ڈیٹ رہے۔ اجلاس میں اسٹیٹ بینک کے گورنر، وفاقی وزیر قانون، سیکریٹری خزانہ، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئرمین، AML-CFT اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
یہ فیصلے ریگولیٹری منظوریوں سے متعلق ہیں؛ ان کے عملی اثرات متعلقہ قانونی و انتظامی نفاذ، رپورٹنگ کے نئے تقاضوں اور ادارہ جاتی عملدرآمد کے بعد زیادہ واضح ہوں گے۔
