کراچی: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن نے درآمدی نائلون کارپٹس کی کسٹمز ویلیوز پر نظرثانی کر دی ہے۔ نئی ویلیوایشن کا مقصد متعلقہ مصنوعات کی درآمد کے وقت ڈیوٹی اور ٹیکس کے حساب کے لیے زیادہ تازہ اور یکساں قیمت کا معیار فراہم کرنا ہے، تاکہ مختلف بندرگاہوں اور کلیئرنس مقامات پر ایک ہی نوعیت کی اشیا کے لیے ویلیوایشن میں غیر ضروری فرق کم کیا جا سکے۔
کسٹمز ویلیوایشن کا نظام اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب درآمدی انوائس کی ظاہر کردہ قیمت، عالمی مارکیٹ کے رجحان یا ماضی کی کلیئرنس ویلیوز میں نمایاں فرق ہو۔ ڈائریکٹوریٹ مختلف ذرائع، درآمدی ڈیٹا، مارکیٹ معلومات اور متعلقہ فریقوں کی آرا کو دیکھتے ہوئے ویلیوایشن رولنگ جاری یا تبدیل کر سکتا ہے۔ نائلون کارپٹس کے لیے تازہ نظرثانی بھی اسی انتظامی اور قانونی فریم ورک کا حصہ ہے۔
نئی کسٹمز ویلیو بذاتِ خود کوئی نئی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح نہیں ہوتی۔ اس کا کام وہ قابلِ محصول قدر متعین کرنا ہے جس پر پہلے سے نافذ متعلقہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا حساب لگایا جاتا ہے۔ اس لیے کسی مصنوعات کی ویلیوایشن میں اضافہ یا کمی درآمد کنندگان کی مجموعی landed cost پر اثر ڈال سکتی ہے، لیکن حتمی مالی اثر اس شے پر لاگو ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دوسرے محصولات کی شرحوں کے ساتھ مل کر بنتا ہے۔
کارپٹ اور فلور کورنگ مارکیٹ میں درآمدی مصنوعات مقامی تیار کنندگان کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔ درآمد کنندگان کے لیے درست اور قابل پیش گوئی ویلیوایشن ضروری ہے تاکہ وہ آرڈر دیتے وقت ٹیکس لاگت کا اندازہ لگا سکیں، جبکہ کسٹمز حکام کے لیے کم قیمت ظاہر کرنے یا غیر معمولی ویلیوایشن کے خطرات سے نمٹنا محصولات کے تحفظ کا حصہ ہے۔
ویلیوایشن رولنگز کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت نظرثانی یا اپیل کے راستے بھی دستیاب ہوتے ہیں، اس لیے متاثرہ کاروباری ادارے مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے شواہد پیش کر سکتے ہیں۔ نئی قیمتوں کا عملی اثر آنے والی consignments کی کلیئرنس اور ان کی declared specifications کے مطابق سامنے آئے گا۔
یہ تبدیلی صرف متعلقہ درآمدی نائلون کارپٹس کی کسٹمز ویلیوایشن سے متعلق ہے۔ اسے پاکستان میں تمام اقسام کے کارپٹس پر نئی عمومی ٹیکس پالیسی یا ہر خوردہ قیمت میں فوری اور یکساں تبدیلی سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مقامی مارکیٹ قیمت پر کرنسی، فریٹ، ڈیوٹی، برانڈ، معیار اور سپلائی چین کے دوسرے عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

