اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس فراڈ اور جعلی انوائسنگ کے خلاف نفاذی مہم تیز کرتے ہوئے متعدد مشتبہ معاملات میں تحقیقات اور قانونی کارروائی آگے بڑھائی ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جعلی یا غیر حقیقی سیلز ٹیکس انوائسز کے ذریعے ان پٹ ٹیکس کریڈٹ حاصل کرنے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے نیٹ ورکس کی نشاندہی کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹا اور ٹیکس ریکارڈ کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔
ٹیکس حکام کے مطابق ایسے معاملات میں کاروباری لین دین، رجسٹرڈ اداروں کے ریکارڈ، انوائسز اور سپلائی چین کے ڈیٹا کو باہم ملا کر مشتبہ سرگرمیوں کی جانچ کی جاتی ہے۔ جہاں ابتدائی شواہد سامنے آئیں وہاں متعلقہ قانون کے تحت تحقیقات، ریکوری اور فوجداری کارروائی کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کسی فرد یا ادارے کے خلاف تحقیقات یا مقدمے کا آغاز جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں اور حتمی ذمہ داری متعلقہ قانونی عمل اور عدالتی فیصلے سے طے ہوتی ہے۔
ایف بی آر کی حالیہ حکمت عملی میں ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، الیکٹرانک انوائسنگ اور ڈیٹا اینالیٹکس کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ جعلی انوائسز نہ صرف محصولات میں کمی کا باعث بنتی ہیں بلکہ قانون کی پابندی کرنے والے کاروباروں کے لیے غیر مساوی مسابقت بھی پیدا کرتی ہیں۔ اسی لیے ٹیکس فراڈ کے خلاف کارروائی کو محصولات بڑھانے کے وسیع پروگرام کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کو مالی خسارہ محدود کرنے اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بہتر بنانے کے لیے اضافی محصولات درکار ہیں۔ اس تناظر میں حکومت نئے ٹیکس اقدامات کے ساتھ موجودہ واجبات کی وصولی اور فراڈ کی روک تھام پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ نفاذی کارروائیوں کی کامیابی کا انحصار قابل اعتماد شواہد، شفاف تحقیقات، قانونی تقاضوں کی پابندی اور ایسے نظام پر ہوگا جس میں جائز کاروباری سرگرمی غیر ضروری رکاوٹ سے محفوظ رہے۔

