اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ حالیہ میکرو اکنامک استحکام کے فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے معاشی اصلاحات اور ان کے مؤثر نفاذ کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔ یہ بات عالمی بینک کے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے لیے ریجنل پریکٹس ڈائریکٹر سندیپ مہاجن کی وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب سے ملاقات میں سامنے آئی۔ عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ڈویژن ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز بھی ملاقات میں شریک تھے۔
فنانس ڈویژن کے مطابق بات چیت میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے، نجی شعبے کی سرمایہ کاری، مالی نظم اور پائیدار ترقی کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔ عالمی بینک کے وفد نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران بیرونی دباؤ سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پالیسی ردعمل اور پہلے سے بنائے گئے معاشی بفرز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ استحکام کو مستقل بنانے کے لیے اصلاحات میں تسلسل ضروری ہوگا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی ترجیح میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار بنانا اور اسے سرمایہ کاری و برآمدات پر مبنی نمو میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹ میں واپسی اور حالیہ تین ارب ڈالر کے یورو بانڈ اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے مزید خودمختار کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ، سرمایہ کار اعتماد اور ملک کے کریڈٹ پروفائل میں بہتری کی اہمیت بیان کی۔
ملاقات میں مالی نظم برقرار رکھنے، بیرونی شعبے کے خطرات کم کرنے، نجی سرمایہ کاری کے لیے واضح ضابطہ کاری، نجکاری کے بعد قابل اعتبار ریگولیٹری انتظام اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے مناسب فنانسنگ ڈھانچوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں فریقوں نے پالیسی کے تسلسل اور عملی نفاذ کو معاشی پیش رفت کے لیے اہم قرار دیا۔
عالمی بینک کی یہ رائے کسی نئے قرض یا فوری مالی پیکیج کی منظوری نہیں بلکہ پاکستان کے موجودہ اصلاحاتی راستے سے متعلق پالیسی گفتگو ہے۔ آئندہ معاشی نتائج کا انحصار مالیاتی نظم، بیرونی کھاتے، سرمایہ کاری، برآمدات اور منظور شدہ اصلاحات کے عملی نفاذ پر ہوگا۔

