وشاکھاپٹنم: سائیکلون ارنب مشرقی بھارت کے ساحلی علاقوں سے ٹکرانے کے بعد کم از کم تین افراد کی ہلاکت کا سبب بنا ہے، جبکہ حکام نے خطرے سے دوچار علاقوں سے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ رائٹرز کے مطابق طوفان نے آندھرا پردیش میں شدید بارش، تیز ہواؤں اور ساحلی علاقوں میں خطرناک موسمی حالات پیدا کیے۔
طوفان کے زیر اثر درخت گرنے، سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور بجلی و نقل و حمل کے نظام میں رکاوٹوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ وشاکھاپٹنم اور دیگر ساحلی علاقوں میں ہنگامی ٹیمیں تعینات کی گئیں، جبکہ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا کہا۔ متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا مکمل تخمینہ موسم بہتر ہونے کے بعد لگایا جائے گا۔
حکام نے طوفان کی آمد سے پہلے نشیبی اور ساحلی آبادیوں سے بڑے پیمانے پر انخلا شروع کیا تھا۔ لوگوں کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا جہاں خوراک، پینے کے پانی اور بنیادی طبی سہولتوں کا انتظام کیا گیا۔ ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی ہدایات دی گئیں اور بندرگاہی و ساحلی سرگرمیوں پر بھی پابندیاں یا محدودیاں عائد کی گئیں۔
موسمی اداروں نے خبردار کیا کہ طوفان کے زمینی علاقے میں داخل ہونے کے بعد بھی شدید بارش اور تیز ہواؤں کا خطرہ فوری طور پر ختم نہیں ہوتا۔ پہاڑی یا کمزور زمین والے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں اچانک سیلاب کا امکان بھی رہتا ہے۔ اسی لیے انتظامیہ نے طوفان کے مرکزی حصے کے گزرنے کے بعد بھی احتیاطی اقدامات جاری رکھنے پر زور دیا۔
بھارت کے مشرقی ساحل پر خلیج بنگال سے اٹھنے والے سمندری طوفان وقفے وقفے سے بڑے انسانی اور معاشی نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ ارنب سے متعلق ہلاکتوں اور نقصانات کے موجودہ اعداد ابتدائی ہیں اور امدادی ٹیموں کی زمینی جانچ کے ساتھ ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ حکام کی فوری توجہ متاثرہ آبادیوں کی حفاظت، بجلی و مواصلات کی بحالی اور بند راستوں کو کھولنے پر مرکوز ہے۔

